خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 574 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 574

خطبات طاہر جلد 1 574 خطبه جمعه ۲۸ اگست ۱۹۸۷ء پہلے کراچی میں فرقہ وارانہ فسادات مذہبی نقطہ نگاہ سے نہیں بلکہ قومی نقطہ نگاہ سے ہوئے اور مہاجر سندھی اور پنجابی پٹھان یہ دو گروہوں میں بٹے ہوئے لوگوں کے درمیان فساد ہوئے۔ اُس کا رد عمل حیدر آباد میں ظاہر ہوا۔ چنانچہ حیدر آباد میں جتنے پنجابی تھے ان کی دکانوں پر حملے ہوئے اور ان کو لوٹا گیا اور کام کرنے والوں کو قتل کیا گیا۔ چنانچہ یہ فرنیچر کی دکان میں ملازم تھے ان کے مالک کو بھی اور ان کو بھی گولی مار کر شہید کر دیا گیا اور یہ بڑے ہی دردناک واقعات ملک میں ہو رہے ہیں اس میں احمدی غیر احمدی کا فرق نہیں ، ہمارے ہم وطن سارے ہی بڑے دکھ اُٹھا رہے ہیں اس لحاظ سے اور ہر طرف نفرتیں پھیلا دی گئی ہیں جو ایسی نفرتیں ہیں جو آگے بڑھنے والی ہیں۔ ایک انتظام کی کاروائی دوسرے انتقام کو پیدا کر دیتی ہے۔ دوسرے انتظام کی کاروائی تیسرے کو پیدا کر دیتی ۔ وہ جہالت کا دور جس کی طرف ایک ڈکٹیٹر (Dictator) نے ملک کو واپس کیا تھا چودہ سو سال پہلے کچھ اس سے بھی پہلے یعنی کلمہ لا الہ الا اللہ کی تحقیر اور تذلیل کا ظالمانہ دور ، وہی دور ان کو اس سے بھی پہلے لے گیا ہے۔ اب عرب جہالت کے زمانے کی طرح یہ ایک دوسروں سے قوموں کے لحاظ سے بٹ رہے ہیں اور اسی طرح انتقام کی کا روائیاں ایک دوسرے کے خلاف کر رہے ہیں جس طرح آپ تاریخ میں پڑھتے ہیں کہ اسلام سے پہلے کے جاہلیت کے دور میں یہ باتیں ہوا کرتی تھیں۔ تو خدا کی تقدیر بتا رہی ہے کہ اگر تم نے جہالت ہی کو اپنے لئے پسند کیا ہے تو جہالت کی تو اور بھی قسمیں ہیں اور نہ ختم ہونے والی جہالت کے سائے ہیں قسم قسم کے ایک سے دوسرا تاریک تر جن کی طرف اب بعض ظالم لیڈ رقوم کو لے کے آگے بڑھ رہے ہیں۔ تو جہاں ان کی نماز جنازہ ہوگی مبارک شہید کی وہاں ساری قوم کے لئے بھی دعا کرنی چاہئے ۔ یہ حالات اچھے نہیں ہیں بڑے ہی خطر ناک ہیں اللہ رحم فرمائے ۔ ہمیں تو کوئی انتظام میں دلچسپی نہیں۔ ہمیں تو اس بات میں دلچسپی ہے کہ قوم ہدایت پائے اور امن حاصل ہو اور جس ملک کو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا تھا وہ اسلام کا گہوارہ بنے۔ اس لئے ہمیں ہرگز کسی فساد سے خوشی یا اطمینان کی کوئی ضرورت نہیں ہے نہ ہو سکتا ہے کسی احمدی کو۔ ہمیں تو ہر فساد سے تکلیف ہوتی ہے اس لئے دعا کریں اللہ اس ملک کو امن بھی نصیب کرے۔ دوسرا جنازہ ہمارے ( سابق ) مربی اظہر احمد صاحب مبلغ ناروے کی پھی کا ہے جو ایک نیک خاتون تھیں اور ہمارے مبلغ کی پھوپھی تھیں اس لحاظ سے ان کی نماز جنازہ بھی نماز جمعہ کے معا بعد ہوگی ۔