خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 573 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 573

خطبات طاہر جلد ۶ 573 خطبه جمعه ۲۸ / اگست ۱۹۸۷ء تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسا روحانی ماحول پیدا ہو جاتا ہے کہ تربیت کی ضرورت ہی کوئی نہیں پڑتی ، تربیت خدا خود کرنے لگ جاتا ہے۔پس میں امید رکھتا ہوں کے ان باتوں کو آپ پلے باندھیں گے اور یہ نہیں ہوگا کہ میں اگلے سال آؤں تو پھر ویسی ہی حالت میں دیکھوں۔بدلتی ہوئی حالتوں میں زندہ قو میں چلا کرتی ہیں ، ایک حال پر نہیں کھڑی رہا کرتیں۔اس لئے آپ کو ہمیشہ ہر لحاظ سے آگے سے ترقی کرنی چاہئے اور میں جانتا ہوں کے ایک سال میں ناممکن ہے سوائے اس کے کہ اللہ معجزہ دکھائے ، ناممکن ہے کہ نوے فیصد آدمی جو داعی الی اللہ نہیں وہ داعی الی اللہ بن جائیں لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ داعین الی اللہ کی تعداد دگنی ہو جائے اگر دس تھے تو ہمیں ہو جائیں اگر میں تھے تو چالیس ہو جائیں۔پس اپنی توفیق کے مطابق کام کریں آپ کی توفیق سے بڑھ کر میں آپ پر بوجھ نہیں ڈالتا کیونکہ خدا بھی نہیں بوجھ ڈالتا لیکن اگر آپ اپنی توفیق کے مطابق کام کریں تو خدا نے آپ کو بہت بڑے بڑے بوجھ اُٹھانے کے قابل بنایا ہے۔اگر خدا نے آپ کو بڑے بوجھ اُٹھانے کے قابل نہ بنایا ہوتا تو ساری دنیا کا بوجھ ہر گز آپ کے کندھوں پر نہ ڈالتا۔اپنی عظمت کو سمجھیں، اپنی خوابیدہ قابلیتوں کو سمجھیں ، آپ میں وہ طاقتیں موجود ہیں جنہوں نے دنیا کی تقدیر بدلنی ہے۔یہ احساس خود اعتمادی پیدا کریں۔پھر جب دعا کے ذریعے اور توکل کے ذریعے آپ کام کریں گے تو انشاء اللہ عظیم الشان کام آپ دنیا میں کر کے دکھائیں گے۔اللہ اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج دو مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔ایک تو ہمارے ایک شہید دوست مکرم رشید احمد صاحب بٹ آف کنڈیارو کے بیٹے تھے، مبارک احمد ان کا نام تھا۔ان کے والد رشید احمد صاحب بٹ کو 1974ء میں شہید کیا گیا تھا۔ان کا وصال احمدیت کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ جو آج کل کراچی اور حیدر آبا دوغیرہ میں فسادات ہورہے ہیں ان کے نتیجے میں ہوا ہے۔نہایت ہی ہمارے ملک کی ایک بدبختی ہے کہ ایسا منحوس سایہ او پر آیا ہوا ہے کہ ہر طرف ملک پھٹتا چلا جا رہا ہے۔پہلے مذہب میں نفاق شروع ہوا ، مذہبی نقطہ نگاہ سے پھٹنے لگے۔اب قومی نقطہ نگاہ سے ملک پھٹتا چلا جا رہا ہے اور دن بدن حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جارہے ہیں۔چنانچہ تین دن