خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 52 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 52

خطبات طاہر جلد ۶ 52 59 خطبہ جمعہ ۲۳ جنوری ۱۹۸۷ء کا وعدہ تھا۔اس میں سے اب تک وصولی 199, 23, 19 کی ہے یعنی پاکستان کے مقابل پر یہ کم ہے 51۔77 فیصد وصولی ہے۔اس وصولی میں میرا خیال ہے کہ ایک رقم داخل نہیں کی گئی اگر وہ داخل کر لی جائے تو یہ وصولی بھی کم و بیش پاکستان کی وصولی کے برابر ہو جاتی ہے یعنی نسبت کے لحاظ سے اور اب ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کون پیچھے رہ گیا اور کون آگے بڑھ گیا۔جہاں تک جماعت برطانیہ کا تعلق ہے خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت برطانیہ سب دنیا کی جماعتوں میں نسبتی یا تناسب کی قربانی کے لحاظ سے آگے ہے یعنی کل وعدہ 37,14,585 میں سے دس لاکھ کا وعدہ صرف جماعت برطانیہ کا تھا، دس لاکھ پاؤنڈ کا جس کا مطلب یہ ہے کہ ڈالر کے لحاظ سے وہ نسبت ایک اور تین کی تقریبا بن جائے گی یعنی بیرون پاکستان ساری دنیا نے جو مالی قربانی پیش کی صد سالہ جو بلی میں اس میں انگلستان کی جماعت کا حصہ %33 سے بھی کچھ زائد بنتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی زیادہ، بڑی عظیم سعادت ہے ایک جو ایک تاریخی سعادت جماعت انگلستان کو نصیب ہوئی ہے۔لیکن اس سعادت میں سب سے زیادہ حصہ پانے والا شخص حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مرحوم و مغفور تھے رضی اللہ تعالی عنہ۔ساری جماعت انگلستان وعده 5,75,000 پاؤنڈ تھا اور صرف چوہدری ظفر اللہ خان صاحب کا وعدہ 4,25,000 پاؤنڈ تھا اور اس طرح یہ دس لاکھ کا وعدہ بنا۔ساری جماعت انگلستان میں اپنے وعدے میں سے اب تک صرف 50۔5 فیصد وصولی پیش کی ہے اور چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب نے اکیلے سو فیصد وصولی پیش کر دی ہے یعنی وعدہ کل سو فیصد ادا فرما دیا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عجیب معجزانہ رنگ میں ظہور ہوا۔جس سے پتہ چلتا ہے کہ مالی قربانی پیش کرنے والے کے اخلاص کا بہت گہرا تعلق ہے اس توفیق سے جو اسے ادا ئیگی کی شکل میں ملتی ہے۔جتنازیادہ خالص ہو انسان کا ارادہ، خدا کے حضور ایک چیز پیش کرنے کی تمنا جتنی زیادہ تقویٰ پر بنی ہو اتنا ہی زیادہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے غیبی مدد وعدے کو پورا کرنے میں حاصل ہوتی ہے۔چوہدری صاحب کا وعدہ چار لاکھ پچیس ہزار کا تھا لیکن بیماری تک کیفیت یہ تھی کہ اس میں سے اڑھائی لاکھ سے زائد رقم قابل ادا تھی اور جو ذرائع تھے وہ سارے ختم ہو چکے تھے تقریبا کیونکہ بہت بڑی رقم چوہدری صاحب کی انگلستان ہی کی ایک فرم ہضم کر چکی تھی اور جس کے ملنے کی کوئی امید باقی نہیں رہی تھی چنانچہ جب مجھے معلوم ہوا، میں پہلے بھی واقعہ بیان کر چکا ہوں بڑا دلچسپ واقعہ ہے۔تو ایک خواب کی بناء پر میرے دل