خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 546
خطبات طاہر جلد ۶ 546 خطبه جمعه ۴ ار ا گست ۱۹۸۷ء تو ہر جگہ کے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اور دیگر کارندوں کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے کہ آئندہ بڑھتی ہوئی ضرورتوں کے پیش نظر ہمیں ابھی سے خدمت دین کی صف اول میں کام کرنے والوں کی تعداد کو بڑھانا چاہئے۔اس سلسلے میں کچھ نفسیاتی روکیں بھی ہیں جن کا تجزیہ ضروری ہے ورنہ بہت سے امیر اور پریذیڈنٹ صاحبان ایسے ہوں گے جن کو پتا ہی نہیں ہو گا اپنا کہ ہم کیوں یہ کام نہیں کر رہے۔کچھ تو جیسا کہ میں نے ایک پہلے خطبہ میں بھی اشارہ کیا تھا اپنی بے وقوفی کی وجہ سے یہ سمجھتے ہیں کہ کچھ لوگ ہمارے ساتھی ہیں اور کچھ لوگ ہمارے دشمن ہیں یعنی ناجائز طور پر بے وجہ بعض احمدیوں پر اعتماد نہیں کرتے وہ سمجھتے ہیں کہ یہ تو ہیں ہمارے مخالفین ان کو ایک طرف چھوڑ دو اور یہ چند لوگ اچھے ہیں یا مخالف نہ بھی سمجھیں تو بدظنی کرتے ہیں۔جب ان سے پوچھا جاتا ہے تو کہتے ہیں جی ! یہاں تو قحط الرجال ہے۔کام کرنے والے ملتے ہی کوئی نہیں۔قحط الرجال تو نہیں ہے لیکن قحط العقل ضرور ہوسکتا ہے۔قرآن کریم بتا رہا ہے کہ قحط الرجال نہیں ہوتا۔بہت سے لوگ خاموش بیٹھے ہوئے ہوتے ہیں تمہیں نظر نہیں آرہے ہوتے۔اس دور کی آزمائش نے ہمیں بتا دیا کہ ہمارے ہاں کثرت سے ہیں ایسے لوگ جن میں الرجال بننے کی خاصیت موجود ہے، ان کو اگر صحیح طریق پر آپ آگے لانے کی کوشش کریں تو بہت اچھے اچھے لوگ آپ کے پاس موجود ہیں جن کو آپ نظر انداز کئے بیٹھے ہیں۔پس بہت سے امراء ہیں جو بدظنی کرتے ہیں حالانکہ درحقیقت اگر گہری نظر سے دیکھا جائے تو دنیا کے کسی دور میں بھی قحط الرجال نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔سب سے زیادہ خطر ناک دور جسے قحط الرجال کا دور کہا جاسکتا ہے وہ انبیاء کے ظہور کا دور ہوا کرتا ہے۔ایک دفعہ تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص کے سوا خدا تعالیٰ نے ہر دوسرے انسان کو ر ڈ فرما دیا ہے۔ایک وجود ابھرتا ہے اور اس کے ارد گرد سارے فساد کی کیفیت دکھائی دیتی ہے۔وہ لوگ جو انتہائی ردی حالت میں دکھائی دے رہے ہوتے ہیں وہ وجود ان پر ہاتھ ڈالتا ہے اور ان کے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنی شروع کر دیتا ہے۔يَتْلُوا عَلَيْهِمْ أَلِي، وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الكِتب وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوْا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَللٍ مُّبِينٍ (الجمع : (٣) یہ نقشہ ابھر نے لگتا ہے۔پس حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کے زمانے میں جتنا قحط الرجال