خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 540 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 540

خطبات طاہر جلد ۶ 540 خطبه جمعه ۴ ار ا گست ۱۹۸۷ء فرمائے ، ان سے عفو کا معاملہ کرے کیونکہ ان کی بھی حالتیں مختلف ہوں گی بعض لوگ نسبتاً بہتر تو فیق پانے کے باوجود پورا اس سے استفادہ نہیں کر رہے ہوں گے۔کچھ ایسے ہوں گے جو خدا کے نزدیک بالکل معذور ٹھہر رہے ہوں گے تو ان کے متعلق عمومی مغفرت کا وعدہ فرما دیا ہے یہ نہیں فرمایا کہ ان سب سے اللہ تعالیٰ عفو کا سلوک فرمائے گا۔تو ان چاروں آیات میں جو مضمون نظر آرہا ہے وہ ایک ماحول ہمارے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ایک ظلم اور تشدد کا ماحول جس میں خدا کے کچھ بندے مجبور اور بے طاقت کئی قسم کے مظالم کا نشانہ بنائے جا رہے ہیں اور ان میں پھر مختلف حالتوں میں ہمیں اللہ کے نام پر مظالم کا نشانہ بنتے ہوئے ہمیں مختلف حالتوں میں لوگ دکھائی دیتے ہیں جن کے رد عمل مختلف ہیں جن کا میں نے بیان کر دیا ہے۔اب میں آپ کو یہ بتانا چاہتا ہوں کہ کیوں میں نے خصوصیت کے ساتھ ان آیات کا انتخاب کیا اور کیوں صرف پہلی دو آیات تلاوت کیں ہیں اور باقی پہلی دو آیات کی وضاحت کے لئے بعد میں پڑھیں۔آج کے خطبے کے لئے میں نے صرف پہلی دو آیات کو خصوصیت کے ساتھ سامنے رکھا ہے۔بہت سی باتیں ان آیات میں ایسی بیان ہوئی ہیں جو سرسری نظر سے معلوم نہیں ہوتیں لیکن اگر آپ گہرا مطالعہ کریں تو زندہ رہنے کے بہت سے گران آیات میں سکھا دیئے گئے ہیں۔مختلف وقتوں میں مختلف منتظمین کو جن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے دراصل ان کے انتظام کی صلاحیت نمایاں طور پر اجاگر ہو کر اس وقت ابھرتی ہے جب وہ مشکلات کے دور میں سے گزر رہے ہوں اور شدید مخالفت کا سامنا ہو یہاں تک کہ یہ خطرہ ہو کہ اگر مستعدی کے ساتھ حالات کا مقابلہ نہ کیا گیا تو قوم شاید صفحہ ہستی سے مٹا دی جائے ، ایسے حالات بھی قوموں پر آتے ہیں۔جہاں تک الہی جماعتوں کا تعلق ہے خدا کا وعدہ ہے کہ دشمن کو ہرگز توفیق نہیں ملے گی کہ وہ انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دے اس لئے اس خطرے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جہاں تک ذمہ دار منتظمین کا تعلق ہے ان کے پھر مختلف قسم کے حالات ہیں۔دو گروہ خاص طور پر ایسے ہیں جن کا اس پہلی آیت کریمہ میں ذکر ہے اور جن کے متعلق میں جماعت کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ہمارے امراء اور پریذیڈنٹ صاحبان اور دیگر عہدیداران کو یہ بات پیش نظر رکھنی چاہئے کہ مومنوں کے پہلے دو درجات جن کو صف اول اور صف دوئم کے درجے کے مومن قراردیا جاسکتا ہے