خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 530 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 530

خطبات طاہر جلد ۶ 530 خطبه جمعه ۷ / اگست ۱۹۸۷ء طرح توجہ دی جاتی ہے لیکن مشرقی قوموں میں اکثر اس طرف توجہ نہیں ہے۔میری ملاقات سوئٹزر لینڈ کے دورے پر ایک بوسنیا کے مسلمان سے ہوئی اور ان کے گھر جانے کا موقع ملا۔محبت سے وہ پیش آئے جماعت احمدیہ سے متعلق بھی بے انتہا محبت کا اظہار کیا اور عملاً ابھی بیعت تو نہیں کی لیکن ہر پہلو سے اپنے نظریات میں اپنے مزاج میں، اپنے رجحان میں وہ احمدی ہو چکے ہیں۔جب میں دورے سے واپس آیا تو وہ مبلغ انچارج سے ملے اور بڑی معذرتوں کے بعد انہوں نے کہا کہ میں ہر طرح سے تم سے مل کر خوش ہوں، راضی ہوں ، ہر بات سے اتفاق ہے لیکن ایک مجھے چھوٹا سا شکوہ ہے مجھے ابھی سمجھ نہیں آتی کہ یہ کیوں ہوا ہے ایسا واقعہ۔انہوں نے کہا بات کیا ہے؟ انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ جب وہ میرے گھر آئے تھے تو بوٹ اتارے بغیر گھر میں داخل ہو گئے تھے۔انہوں نے کہا یہ اس میں کیا بات ہے یہ تو سارا یہی ہوتا ہے یہاں۔انہوں نے کہا ” ہیں؟ آپ کے ہاں یہی ہوتا ہے؟ اسلام نے تو گھروں کی صفائی کا ایسا معیار مقرر کیا ہے کہ ہمارے بوسنیا میں تو کوئی شخص بھی جو مسلمان ہو بوٹوں سمیت گھروں میں داخل نہیں ہوتا اور وجہ یہ ہے کہ ہم سمجھتے ہیں گھر کو چپہ چپہ ایسا ہونا چاہئے جہاں سجدہ کیا جا سکتا ہو خدا کو اور بہت برے حال تک وہ لوگ پہنچ گئے لیکن اس معیار کو آج بھی انہوں نے قائم رکھا ہوا ہے۔اس شکوے پہ میرا دل عش عش کر اٹھا ، میں نے ان سے کہا کاش! ہر جگہ ہمارے ہاں یہی رواج بن جائیں کہ ایسے گھر پاکیزہ رکھے جائیں کہ گویا اس کے چپہ چپہ پر سجدہ ہو سکے۔لیکن یہ معیار حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے اور بعینہ گھر کے ہر حصے کو ایسا بنانا ہم پر فرض نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم اور احادیث سے پتا چلتا ہے کہ گھر کے بعض حصوں کو وقف کرنا ضروری ہے۔آنحضرت ﷺ نے تو بہت کھل کر بیان فرمایا ، بار بار وضاحت سے فرمایا کے گھروں میں ایک ایسا حجرہ ہونا چاہئے ، ایک ایسی الگ جگہ ہونی چاہئے جہاں جا کر تم عبادتیں کرو اور خدا کی طرف تبتل اختیار کرو۔( حدیث اسماعیل بن جعفر جلد اول حدیث نمبر۰ ۳۱) بچے ہوتے ہیں، بچوں کی عادتیں مختلف اور پھر کام بھی ہمارے ہاں بہت ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ بعض گھروں میں ماشاء اللہ سات سات، آٹھ آٹھ بچے پیدا ہو جاتے ہیں اب وہاں کس طرح وہ عورت بے چاری نبٹے گی کاموں سے کہ وہ گھر کا معیار الیسا بلند رکھ سکے لیکن بہر حال جو رکھ سکتے ہیں انہوں نے کمال کر دیا، اس میں کوئی شک نہیں۔قابل تعریف ہیں وہ لوگ جنہوں نے صفائی کے معیار کو اس انتہا تک پہنچا دیا ہے کہ ان کے گھروں میں ہر چیپہ پر سجدہ ہوسکتا ہے وہ مسجدیں بن گئی ہیں۔