خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 523
خطبات طاہر جلد ۶ 523 خطبه جمعه ۷ / اگست ۱۹۸۷ء آپ کے اوپر جو بد حالی کی تصویر بنی ہوئی ہے اس کو دور کرنے کی اور کوئی صورت نہیں ہے سوائے اس کے کہ آپ خدا کے گھر کے معاملے میں اپنی توجہ کو درست کریں، اپنی نیتوں کو صاف کریں۔چنانچہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جلدی تو اس بات کا اثر نہیں ہوا مگر جب بھی ہوا چند سالوں کے بعد اس جماعت کی حالت بھی بدل گئی ساتھ۔ایک جگہ نہیں دیکھا میں نے ، دو جگہ نہیں ، بارہا دوروں کے وقت میں نے محسوس کیا کہ جو جماعتیں مسجدوں کی طرف توجہ دیتی ہیں ان کی اپنی حالت بھی اسی شان کے مطابق درست ہوتی ہے اور اس کے ساتھ ایک براہ راست نسبت رکھتی ہے۔جو جماعتیں اپنی مساجد سے غافل ہو جاتی ہیں ان کے اندر پراگندی آجاتی ہے، بدحالی کی کیفیت دن بدن بڑھتی رہتی ہے اور پھر یہاں تک کہ ایک دوسرے سے منتشر ہو کر بسا اوقات ایک دوسرے کی دشمنیوں کا بھی شکار ہو جاتے ہیں۔تو یہ زائد فائدہ ہے جو جماعت کو حاصل ہو گا اگر ہر جگہ مساجد کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کریں گے تو انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کی عمومی حالت پر اس کا بہت ہی اچھا اثر پڑے گا۔اس سے اگلا مقام ہے زینت بخشنے کا۔جہاں جہاں ممکن ہے وہاں مسجد کو پھولوں سے سجانا چاہئے۔اردگرد کیاریاں لگائی جائیں، جہاں جہاں ایسے ساتھ صحن موجود ہیں جن کو سجایا جا سکتا ہے، سائے کا انتظام کرنا چاہئے۔احمدی مسجد باقی تمام دنیا کی مساجد سے اس لحاظ سے امتیاز اختیار کر جائے کہ دولت کی بھر مار وہاں نظر نہ آئے مگر خلوص اور محبت ،صفائی اور پاکیزگی کی صورت میں اس مسجد پر ہمیشہ نچھاور ہورہا ہو۔نظر پڑے تو محسوس کرے کہ ایسے لوگوں کی مسجد ہے جو خدا کی عبادت سے محبت رکھتے ہیں۔جو اپنے گھر پر خدا کے گھر کو ترجیح دینے والے ہیں۔اس کے برعکس ایک ایسی بھیا نک شکل اور بھی نظر آتی ہے کہ اپنے گھر سجانے والوں کی مسجد میں بھی برے حال میں ہوتی ہیں۔بعض ایسے علاقے ہیں جہاں گھروں کی طرف بڑی توجہ دی جاتی ہے۔طبعا اور فطرتا ان کو شوق ہے کہ گھر اچھے رکھے جائیں لیکن اس کے باوجود مسجد کی حالت زبوں ہوتی ہے اندر جائے انسان تو محسوس ہوتا ہے کہ اس میں کچھ تاریکی کا سایہ ہے۔اندر جا کر اطمینان سے بیٹھنے کا لطف نہیں آتا۔تو امید رکھتا ہوں کہ اس طرف بھی خصوصیت سے توجہ دیں گے کیونکہ ملتِ واحدہ بنانے کے پروگرام میں اس کو بھی ایک بڑی اہمیت حاصل ہے۔ہم اس صدی کے بہت قریب پہنچ گئے ہیں