خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 516
خطبات طاہر جلد ۶ 516 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء پس اس قوم سے مایوسی کی وجہ نہیں ہے۔اس قوم میں لازما شرافت موجود ہے اور اور یہی سے۔وجہ ہے کہ جماعت کی اکثریت ان آزمائشوں کو دیکھ رہی ہے لیکن خود نہیں گزر رہی ان میں۔جماعت کی اکثریت یہ دکھ تو برداشت کر رہی ہے اور بڑے حوصلے کے ساتھ مگر بڑی تکلیف کے ساتھ بیک وقت کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو حکومت کے کارندے اور چند مولوی دن رات گالیاں دے رہے ہیں اور شدید جھوٹے بے بنیاد الزامات جماعت احمدیہ پر آئے دن لگائے جار ہے ہیں مگر عملاً جس طرح کہ ان کے بعض ساتھیوں کے ساتھ نہایت تکلیف دہ واقعات پیش آرہے ہیں جسمانی اذیتوں کے، قید و بند کے ، جھوٹے الزامات انفرادی طور پر عائد کرنے کے جماعت کی بھاری اکثریت پاکستان میں اس سے بچی ہوئی ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ اکثریت بیچ میں ، دل کے اندر سے شریف ہے اور وہ کھلم کھلا ظلم میں شامل ہونے کے لئے تیار نہیں ہے۔اس لئے آج میں یہی کہہ کر اس خطبے کو ختم کروں گا کہ سب دنیا سے جو احمدی آئے ہوئے ہیں اول تو وہ یہ معلوم کر لیں کہ ان کے بعض بھائیوں پر اس ملک میں کیا گزر رہی ہے؟ کیسے دردناک حالات سے وہ گزر رہے ہیں اور کس حو صلے کے ساتھ وہ اپنے عہدوں کو نبھا رہے ہیں اور خدا تعالیٰ سے کسی قیمت پر بھی بے وفائی کے لئے تیار نہیں۔ان کے نمونوں کو ساری دنیا میں زندہ رکھنا ہم سب پر فرض ہے اور دوسری طرف اس لئے میں یہ واقعات پڑھ کے آج آپ کو سنا رہا ہوں کہ جہاں بھی جلسے کے شر کا ء واپس جائیں گے وہاں اپنی جماعتوں کو یہ واقعات بتائیں اور ان کو دعاؤں کی تحریک کریں۔یہ واقعات ہم جہاں تک بس چلتا ہے دنیا کی نظر میں بھی لے کے آتے ہیں لیکن دنیا کی نظر میں لانے سے ہر گز یہ مراد نہیں کہ ہمارا اس بات پر انحصار ہے کہ وہ حکومت پاکستان کو مجبور کریں گے اور حکومتِ پاکستان ان بد کاروائیوں سے باز آجائے گی، ہرگز ایسا ہمارا کوئی انحصار نہیں اور وہ جو کوشش کرتے بھی ہیں ، وہ جو جوابات ہمیں بھجواتے ہیں وہ بڑے مایوس کن ہوتے ہیں۔وہ بڑے بڑے ممالک کے بڑے بڑے نمائندگان جن کا اپنے ممالک میں بھی ایک غیر معمولی احترام ہے جن کی قوت وہاں محسوس کی جاتی ہے وہ بھی جب لکھتے ہیں حکومت پاکستان کو تو جو جواب وہاں سے آتا ہے اسے احمدی کو جس نے ان کے سامنے وہ حالات بیان کئے ہوئے ، بسا اوقات اس نوٹ کے ساتھ بھیج دیتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ بالکل جھوٹ ہے یعنی وہ جواب جو انہوں نے دیا ہے سراسر جھوٹ ہے لیکن اب میں کیا