خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 512 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 512

خطبات طاہر جلد ۶ 512 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء سپاہی آئے اور کہا ہم آپ کو گرفتار کرنے آئے ہیں۔جرم یہ بتایا کہ بورڈ پر بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیمِ لکھا ہوا ہے اور یہی نہیں بلکہ نحمده و نصلی علی رسوله الکریم بھی لکھ دیا گیا ہے کہ میں اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں جو بہت رحمان بے حد رحم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے اور ہم حمد کرتے ہیں اس ذات کی ونصلی علی رسوله الکریم اور اس کے معزز رسول پر درود بھیجتے ہیں۔پھر اس نے بتایا کہ یہی ابھی جرم نہیں ہے ایک اور بھی جرم تم نے کیا ہے یہ آیت بھی لکھی ہوئی ہے أَلَيْسَ اللهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ (الزمر : ۳۷) کیا خدا اپنے بندے کے لئے کافی نہیں ہے۔تو کہتا ہے کہ اتنے شدید واضح جرائم کے بعد تم نے ہمارے لئے رستہ کوئی نہیں چھوڑ ا مگر اب ہم مجبور ہو کر تمہیں لا زما قید کریں گے۔لکھنے والے دوست کے والد چونکہ بوڑھے تھے انہوں نے کہا میں اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں تم ان پر اس کی ذمہ داری نہ ڈالو میں ذمہ دار ہوں مجھے لے جاؤ۔چنانچہ تھانے دار نے یہ شرافت دکھائی کے ان کو ساتھ لے گیا اور رستے میں کہا کہ دل تو میرا بالکل نہیں چاہتا مگر میں سخت مجبور ہوں ، اوپر سے ہمیں اسی قسم کے احکامات ملتے ہیں۔کہتے ہیں پولیس کا تو رویہ بس اتنا ہی رہا لیکن جس افسر کے سامنے جو مجسٹریٹ تھا، ہمیں پیش کیا گیا اس نے یہ معلوم کر کے کہ ہمارا جرم کیا تھا ہمارے خلاف نہایت گندی زبان استعمال کرنی شروع کی۔کہتے ہیں ہمارے ساتھ بعض بڑے بھیانک جرائم میں ملوث دوسرے جرائم پیشہ لوگ بھی شامل تھے لیکن ان کے ساتھ وہ نرمی سے بولتا رہا لیکن جب اس کو یہ پتا چلا کہ ہم نے لا اله الا الله محمد رسول اللہ کی گواہی دی ہے یا بِسمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ لکھ کر اپنی دکان پر لگایا ہوا ہے یاد کان کی پیشانی درود سے سجائی ہے اور آیت قرآن کریم اس پر لکھی ہے ، وہ کہتا ہے ایک دم م مشتعل ہو گیا اور آپے سے باہر ہو گیا اور سخت گندی زبان استعمال کرتے ہوئے کہا تم باز آؤ گے یا نہیں؟ میں تمہیں تین سال کی قید با مشقت کی سزا دوں گا اور اس کے بعد اس نے ماتحتوں کو حکم دیا اس کی اچھی طرح پٹائی کرو تا کہ یہ بار بار یہ جرم کرنے سے باز آجائے۔