خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 509 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 509

خطبات طاہر جلد ۶ 509 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء طیبہ ڈسٹرکٹ جیل صدر شاہ پور میں ہیں۔( کیا جرم کر رہے ہیں وہاں ؟) پنجگانہ نمازیں اور نماز تہجد با جماعت التزام سے ادا کر رہے ہیں“۔یہ تو ایک بچے کے ساتھ اس بھیانک جرم میں سلوک کیا گیا ہے کہ اس نے اللہ کی تو حید اور حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی صداقت کی گواہی دی تھی۔ایک نیم پاگل ، یعنی پاگل تو پورے نہیں لیکن جو فاطر العقل سے مجہول سے لوگ ہوتے ہیں۔ایک ایسا شخص مسجد بیت الذکر آہیراں والا میں خادم بیت ہے اور وہ خود بھی جانتا ہے کہ میری ذہنی حالت درست نہیں۔وہ یہ لکھتا ہے کہ:۔وو عاجز جامع مسجد بیت الذکر واقع محلہ آہیراں والا میں بطور خادم بیت الذکر میں کام کرتا ہے۔پولیس کو اچھی طرح علم ہے کہ میرا دماغ ٹھیک نہیں ہے۔پیشتر ازیں بھی خاکسار پر اذان کا کیس چل رہا ہے۔( یعنی جرائم ہیں اذان کا بھی ایک جرم ہے بڑا خطرناک)۔سیدی ! مورخہ 87-6-26 کو جب پولیس نے پانچویں مرتبہ کلمہ طیبہ مٹانے کے لئے کوشش کی تو اس عاجز کے بھی پیچھے سے ہاتھ باندھ، زور دار تھپڑوں سے مارنا شروع کیا۔عاجز نے ”سی“ تک نہ کی اور محض اللہ نہایت صبر اور استقلال سے انسپکٹر پولیس کی مار کو برداشت کیا اور اپنے چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ ہنستے ہوئے حوالات تھا نہ خوشاب اور پھر یہاں سے ڈسٹرکٹ جیل صدر بھیجے گئے۔ہم اپنے پیارے امیر ضلع مکرم ملک جہانگیر محمد جوئیہ کے ہمراہ اس وقت جیل میں بند ہیں۔مکرم امیر صاحب ضلع خوشاب دوبارہ لکھتے ہیں:۔اب پولیس نے پانچویں بار مسجد احمد یہ خوشاب سے کلمہ طیبہ مٹا دیا ہے اور اس کے ساتھ ہی نواحمدی احباب کو گرفتار کر کے جیل بھیج دیا ہے۔اب شہر خوشاب میں بہت کم مرد رہ گئے ہیں۔اکثر احمدی احباب کلمہ طیبہ کے جرم میں جیلوں کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں پڑے ہوئے ہیں۔اب ہم سفید