خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 507
خطبات طاہر جلد ۶ 507 خطبہ جمعہ ۳۱ جولائی ۱۹۸۷ء ان کے سب تبصرے جو جماعت احمدیہ کے متعلق اور بانی جماعت احمدیہ کے متعلق ہیں ایسے ناپسندیدہ اور ایسے مکروہ اور ایسے جھوٹے اور ایسے بے بنیاد ہیں کہ انسان حیرت سے دیکھتا ہے کہ ان فیصلوں کے بعد ان تبصروں کے بعد ان کا کیا حق باقی رہتا ہے کہ وہ عدلیہ کہلائیں۔آج میں جس پہلو سے آپ کے سامنے بعض حالات رکھنا چاہتا ہوں وہ پہلو ہے ان اسیرانِ راہ مولا کے دل کی کیفیات اور ان کی اپنی زبان سے یہ ذکر کہ ان پر کیا گزر رہی ہے اور ان سے اس ملک میں کیا سلوک ہو رہا ہے۔اس ضمن میں میں پہلا اقتباس آپ کے سامنے مکرم جہانگیر جوئیہ صاحب ایڈووکیٹ امیر ضلع خوشاب حال شاہ پور جیل کے ایک خط سے پڑھ کے سناتا ہوں۔آپ کو یہ بار بار توفیق ملی کہ کلمہ طیبہ پڑھنے کے جرم میں یعنی کلمہ شہادہ پڑھنے کے جرم میں اور اسے عزت اور پیار سے اپنے سینے پر آویزاں کرنے کے جرم میں بار بار جیل میں جائیں اور جتنی بار پھر ضمانت سے نکالیں جائیں پھر دوبارہ اسی جرم کا اعادہ کریں اور پھر جیل میں جائیں۔یہاں تک کہ اب تو کئی ماہ سے ان کی ضمانت کی امیدیں بھی قطع ہوتی جاتی ہیں اور ہائی کورٹ نے بھی یہ تبصرہ کرتے ہوئے ان کی ضمانت کو رد کر دیا ہے کہ یہ تو ایسا بھیانک جرم ہے اللہ کی اور محمد مصطفی پہلے کی صداقت کی گواہی دینا اور سچائی کی گواہی دینا کہ ان کے خلاف توہین رسالت کے مقدمے درج ہونے چاہئیں۔بہر حال وہ لکھتے ہیں :۔”دو روز قبل مورخہ 27 جولائی کو سات افراد جماعت احمدیہ ( یعنی خوشاب کے سات افراد جماعت احمدیہ ) کلمہ طیبہ کے جرم میں جیل میں خاکسار کے پاس پہنچ چکے ہیں اور دو افراد جماعت احمدیہ ڈیرہ بستان اور ڈیرہ چانن خان والے سے بھی تعلق رکھتے ہیں۔اس بار پولیس انسپکٹر عبدالحمید خان نیازی نے اسیران کلمہ طیبہ کو خوب مارا۔خان محمد صاحب انصار اور بوڑھے آدمی تھے ان کو بہت مارا اور ان کا ایک دانت بھی خراب ہو گیا۔ان کی عمر تقریباً ساٹھ سال ہے۔ان کو اس انسپکٹر نے مارتے ہوئے کئی بار نیچے گرایا۔ان کے علاوہ میر عالم صاحب، مبشر احمد صاحب، رانا اسد اللہ صاحب اور مشتاق احمد صاحب کو بھی اس انسپکٹر نے نہایت بے رحمی سے مارا، مبشر کی عمر تو