خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 500
خطبات طاہر جلد ۶ 500 خطبہ جمعہ ۲۴ ؍ جولائی ۱۹۸۷ء ہے کہ ہر کوشش کریں، ہر جتن کریں کہ ہمارے تمام اختلافات مٹ جائیں اور جماعت امت واحدہ بن کر اُبھرے تا کہ ہم اگلی صدی میں ایک قوم کے طور پر، ایک ایسی جماعت کے طور پر داخل ہوں جن میں سے ایک جماعت کا تقویٰ ہر فرد کے اوپر مہر بن جائے، ہر فرد جو اس جماعت میں داخل ہواس پر خدا تعالیٰ کے فرشتے تقویٰ کی مہریں لگا رہے ہوں۔اس لئے خصوصیت کے ساتھ میں توجہ دلا رہا ہوں کہ ابھی تک گزشتہ تین چار سال میں بارہا کہنے کے باوجود بعض مقامات پر بعض فسادات کے اڈے قائم ہیں۔بعض ملکوں میں وہ ذلیل اور کمینی روایات ابھی تک چل رہی ہیں کہ ایک دوسرے کا گلہ کاٹ رہا ہے، ایک دوسرے کے خلاف شکایتیں کر رہا ہے اور پھر ٹولیاں بن بن کے امیر کے خلاف شکایتیں کر رہے ہوتے ہیں۔پھر امیر کی طرف سے اس کے ہمنوا جواب دے رہے ہوتے ہیں کہ نہیں قصور فلاں کا ہے فلاں کا ہے۔میں تنگ آگیا ہوں ان چیزوں سے۔اپنی ذات کے لئے نہیں بلکہ آپ کے مزاج کی خاطر۔ساری جماعت کی طرف سے میں تنگ آچکا ہوں ، ہماری جماعت اس بات کو قبول نہیں کرے گی۔اس لئے امراء کے لئے اب دور ستے ہیں اگر تو ان کے اندر کوئی قصور ہے تو اپنی حالت کو درست کریں اور اپنے تقویٰ کے معیار کو بلند کریں اور سر دھڑ کی بازی لگا دیں اس بات میں کہ ساری جماعت متحد ہو جائے گی۔یا پھر وہ جو قصور وار لوگ ہیں ان کو نظر انداز وہ کیوں کر رہے ہیں؟ ثابت کریں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو قصور وار ہیں اور ہر اصلاح کی کوشش ناکام ہوئی ہے ان کو نکال کے باہر پھینکا جائے گا۔اگلی صدی میں خدا تعالیٰ اگر تو فیق عطا فرمائے تو میرا یہ فیصلہ ہے کہ ہم نے متحد ہو کے داخل ہونا ہے ، ہم نے بکھری ہوئی حالت میں داخل نہیں ہونا۔انشاء اللہ تعالیٰ و بالہ توفیق۔اس لئے امراء کو میں چھ مہینے کا وقت دیتا ہوں۔چھ مہینے جو زور لگانا ہے لگالیں اور دو میں سے ایک رستے کو کھول دیں، واضح کر دیں کہ ہماری کوششوں کے نتیجے میں اب خدا کے فضل سے ساری جماعت واحد جماعت میں تبدیل ہو چکی ہے اور ہمارے دل ایک دوسرے سے مل چکے ہیں، بھائی بھائی ہوچکے ہیں اور ہمارے اندر کوئی تفریق نہیں ہے۔یا دوسرا پہلو یہ کہ فلاں افراد ایسے ہیں جماعت کے جو نہیں سمجھ رہے اور نہیں باز آر ہے، یہ یہ جتن ہم نے کئے لیکن انہوں نے کوئی اثر نہیں دکھایا۔ایسی صورتوں میں اُن جماعتوں میں کمیشن مقرر کئے جائیں گے دیکھا جائے گا کہ ہو کیا رہا ہے۔اگر امیر کو تبدیل کرنے