خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 46
خطبات طاہر جلد ۶ 46 خطبہ جمعہ ۱۶ جنوری ۱۹۸۷ء ذکر کر کے کہ میں نے نہیں دیا، اپنی چالاکی کا اظہار کر رہا تھا کہ میں نے روک لیا۔خدا نے اس حالت میں اس کو وفات دی کہ اپنا سب کچھ جماعت کو دے کے مرا ہے، ایک پیسہ بھی کسی اور کو نہیں دیا۔یہ ہے اللہ تعالیٰ کی شان ، ایک چھوٹا سا واقعہ گزرتا ہے اور خدا تعالی کی یادداشت تو کبھی مٹا نہیں کرتی اور وہ ایک فیصلہ فرمالیتا ہے خدا اس کے اوپر اور اُسے پورا کرتا ہے۔اور مجھے جو بیچ میں داخل کیا گیا، ایک خلیفہ کو بیچ میں گواہ ٹہرایا گیا ہے کہ دیکھو یا درکھنا میں اس طرح سلوک کیا کرتا ہوں۔وہ کتاب کا ملنا بھی اتفاقی تھا بظاہر اور پھر ان سے یہاں ملاقات ہو کر یہ ذکر چھیڑنا بھی بظاہر اتفاقی تھا مگر جو خدا تعالیٰ سے تعلق کے مضامین کو جانتے ہیں ان کو پتا ہے کہ یہ اتفاقات نہیں ہیں۔یہ سب اللہ تعالیٰ کی تقدیریں چلتی ہیں حیرت انگیز طور پر یہ تقدیر جاری ہوتی ہے اور ہمارے ایمان کو ایک نیا ولولہ ایک نیا جوش دے کر خدا کے اور بھی قریب کر جاتی ہے۔اس لحاظ سے مجھے ان سے گہرا ذاتی تعلق بھی پیدا ہوا۔ان کا علاج بھی میں کرتا رہا ہوں ہومیو پیتھک اس سے خدا کے فضل سے فائدہ بھی پہنچا تھا ان کو گر بہر حال کلکتہ میں سفر کے دوران ان کی وفات ہوئی ہے۔سید بشیر احمد صاحب پٹنہ کے ہیں۔صوبائی تبلیغی منصوبہ بندی کمیٹی کے سیکرٹری ہیں۔ان کے والد سیدعبدالجبار صاحب کا وصال ہو گیا ہے اس لئے ان کی طرف سے درخواست ہے نماز جنازہ غائب کی۔محمود احمد صاحب چیمہ مبلغ سلسلہ انڈونیشیا کی والدہ محترمہ بھی وفات پاگئیں ہیں۔وہ چونکہ جہاد کی حالت میں تھے اس لئے خصوصیت کے ساتھ ان کی والدہ حق دار ہیں ، ان کیلئے دعا کی جائے۔ایک ہمارے مخلص احمدی دوست ہیں مکرم عبدالحمید صاحب قادیان کے ماسٹر چراغ دین صاحب مرحوم کے بیٹے ان کی اہلیہ کی وفات کی بھی اطلاع ملی ہے۔اسی طرح شاہد کلیم احمد صاحب دار النصر غربی سے لکھتے ہیں کہ ان کے والد ماجد صو بیدار محمدمجید احمد صاحب وفات پاگئے ہیں۔یہ جہلم میں فیکٹری جو تھی صاحبزادہ مرزا منیر احمد صاحب کی اس میں کام کیا کرتے تھے۔ان کے بیٹے کو 1974ء میں بہت ہی غیر معمولی بہادری کے ساتھ احمدیت کے لئے مارکھانے کی توفیق ملی اور غیر معمولی طور پر ان کو زدو کوب کیا گیا یہاں تک کہ بعضوں کا خیال تھا کہ شاید بچ نہ سکیں۔لیکن کوئی ذرا بھی شکوہ نہ ان کی زبان پر آیا نہ ان کے والد پر بلکہ غیر معمولی بشاشت تھی اس واقعہ کی وجہ سے۔اس لئے بھی صوبیدار صاحب خاص طور پر دعاؤں کے مستحق ہیں۔