خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 493
خطبات طاہر جلد ۶ 493 خطبہ جمعہ ۲۴ جولائی ۱۹۸۷ء بازی شروع ہو جاتی ہے اور ایسی جماعت برکتوں سے محروم رہ جاتی ہے۔چنانچہ وہ برکتیں جو اجتماعیت کے نتیجے میں نصیب ہوتی ہیں ان کا ذکر اس سے اگلی آیت میں فرمایا گیا ہے اور اس کو پڑھ کر اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ یہاں جہاں فرمایا گیا ہے یعنی تیسری آیت میں اس میں دراصل یہ مضمون مکمل فرما دیا گیا ہے جس کا آغاز ہوا تھا۔ياَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ حَقَّ تُقَتِہ سے فرمایا: - وَلْتَكُنْ مِنْكُمْ أُمَّةً يَدْعُوْنَ إِلَى الْخَيْرِ وَيَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَأُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ) کہ تم وہ لوگ ہو جو اللہ کی طرف بلانے والے بن گئے ہو، جب تک تم اکٹھے نہ ہو تم اس بات کے اہل نہیں ہو کہ لوگوں کو خدا کی طرف بلاؤ، نیکیوں کی طرف متوجہ کرو اور بدیوں سے باز رکھو۔خدا کی طرف بلا نا عملاً انہی دو پہلوؤں پر مشتمل ہے۔خدا کی طرف سے آنے والا یہی دو کام کرتا ہے۔نیکیوں کی تعلیم دیتا ہے، بدیوں سے روکتا ہے لیکن اس کا حق تب قائم ہوتا ہے جب خدا کی رسی پر ہاتھ ڈالا ہو۔خدا کی رسی پر ہاتھ ڈالنے سے مراد، حبل اللہ پر ہاتھ ڈالنے سے دوسری مراد یہ ہے کہ اس کا خدا سے تعلق پیدا ہو جاتا ہے۔جس طرح ایک تار برقی سے ایک بلب کا تعلق ہو جاتا ہے تو وہ روشن ہو جاتا ہے۔اس میں اس تار کے اندر دوڑنے والی قوتوں کے آثار ظا ہر ہو جاتے ہیں۔تو فرماتا ہے اگر تم حبل اللہ کو پکڑ لو گے تو تمہارے اندر بھی الہی صفات کے آثار ظاہر ہوں گے اور تم اس قابل ہو جاؤ گے پھر کہ لوگوں کو نیکی کی تعلیم دو اور ان کو بدی سے روکو۔وَ أُولَيكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ اس طرح خدمت دین کرنے والے ، اس طرح لوگوں کو نیکیوں کی طرف بلانے والے اور بدیوں سے باز رکھنے والے یقیناً کامیاب ہوتے ہیں۔میرا عمومی تجربہ یہ ہے کہ جن جماعتوں میں وحدت ہے وہاں برکت ہے، وہاں ان کی باتوں میں اثر ہے۔وہ اپنے ماحول کی اصلاح کے اہل ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے وحدت کے نتیجے میں بے شمار برکتیں ان کو نصیب ہوتی ہیں۔ان کی دعوت الی اللہ بھی قبول کی جاتی ہے لیکن جہاں جماعتوں میں اختلاف ہے وہاں کوئی بھی برکت باقی نہیں رہتی۔نحوست پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہے