خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 45
خطبات طاہر جلد ۶ 45 خطبه جمعه ۱۶ جنوری ۱۹۸۷ء لکھی اور جب یہ Common sense about Ahmadiyyat نے ایک بہت اچھی کتاب کتاب لکھی تو مجھے بھی وہاں بجھوائی۔ بہر حال یہ واقعہ بیان کرنے کے بعد آپ کو ایک اور دلچسپ واقعہ سناتا ہوں ان کے متعلق ۔اس کتاب کے ملنے سے ایک سال پہلے کی غالبا بات ہے کہ مجھے کسی احمدی دوست نے لائبریری سے کتابیں دیکھتے دیکھتے ایک کتاب بھجوائی جو کسی بنگالی نوجوان نے لکھی تھی ۔ کلکتہ سے لے کر انگلستان تک کے سفر کے واقعات تھے اور وہ بچہ وہ تھا جو بھاگا ہوا، ماں باپ سے سکول سے ، سوسائٹی سے۔ آوارہ مزاج ہو کے تلاش میں کہ کہاں میں جاؤں؟ کہاں میں جا کہ ٹکوں ؟ اس مزاج کا بچہ نکلا اور اپنے سارے سفر کے واقعات لکھتا رہا۔ دتی بھی آیا۔ دتی کے واقعات اس نے جو لکھے اس میں یہ لکھا ان دنوں میں دلّی میں جماعت احمدیہ کے کچھ لوگ رہتے تھے۔ ایک ان میں چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب، ایک چوہدری بشیر احمد صاحب کاہلوں مرحوم ، ایک شیخ اعجاز احمد صاحب اور اس طرح بعض اور وں کا ذکر کیا اور مجھے بھی دلچسپی تھی نئی نئی چیزیں دیکھنے کی تو میں تو دنیاد یکھنے کے لئے نکلا ہوا تھا۔ تو میں نے ان سے رابطہ کیا اور انہوں نے مجھ سے بڑا حسن سلوک کیا اور کہا کہ ہمارا جلسہ سالانہ ہو رہا ہے قادیان تم بھی ہمارے ساتھ چلو ۔ وہ لڑکا لکھتا ہے، Author اس کا، مصنف کتاب کا کہ میں چلا گیا اور یہ یہ کچھ دیکھا وہاں ۔ بعد میں ان کے خلیفہ سے ملاقات ہوئی۔ جو میرے ساتھی تھے وہ کچھ کچھ نذرانہ پیش کر رہے تھے جنہیں وہ ایک طرف پھینک رہے تھے اور جب مجھ سے مصافحہ کیا تو میرے ہاتھ میں نذرانہ کوئی نہ تھا، تو چنانچہ انہوں نے میرا ہاتھ دبایا جس کا مطلب یہ تھا کہ تم بھی کچھ نذرانہ پیش کرو اور اس کے بعد بات ختم ہو گئی۔ وہ جب کتاب میں نے پڑھی تو میرے دل میں سخت اس بات کی کرید لگ گئی کہ کاش اس مصنف سے میرا رابطہ ہو جائے اور میں اس کو سمجھاؤں کہ وہ تو محبت سے احمدیت کی طرف کھینچنا چاہتے تھے تم بالکل غلط سمجھے ہوان کا پیغام ، ان کو تمہارے نذرانے کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی۔ بس دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی ۔ انگلستان جب میں اب آیا تو یہ فیض رسول صاحب مجھے ملنے آئے اور اپنا تعارف شروع کروایا میں کون ہوں ، کس طرح احمدی ہوا۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک کتاب لکھی تھی ایک نوجوان بنگالی نے ۔ آپ جانتے ہیں وہ کون ہے؟ انہوں نے کہا وہ میں ہی ہوں۔ اس میں جو دلچسپ واقعہ ہے ایمان افروز خاص پہلو ، وہ یہ ہے کہ انہوں نے وفات سے پہلے اپنا سب کچھ جماعت کو دے دیا ہے۔ وہ بچہ جس نے خلیفہ وقت پر بدظنی کی تھی اور ایک روپیہ دینے کا