خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 44
خطبات طاہر جلد ۶ 44 خطبہ جمعہ ۱۶ جنوری ۱۹۸۷ء فضل کرے گا تو ایسی تحریکیں بعد میں آتی رہیں گی لیکن حالات میں بھی خدا فراخی بخشتار ہے گا۔خطبہ ثانیہ کے دوران فرمایا: آج چھ احمدی خواتین اور مردوں کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔پہلے مکرم الحاج عبد العزیز صاحب ابیولہ کے متعلق نائجیریا سے یہ اطلاع ملی ہے کہ وہ وفات پاگئے ہیں۔یہ بہت ہی مخلص فدائی احمدی تھے جو جماعت احمد یہ نائجیریا کے نیشنل پریزیڈنٹ تھے۔بہت بزرگ، نیک مزاج،سعید فطرت ، احمد یہ نظام کو سمجھنے والے اور اطاعت میں صف اول میں۔بہت نیک اثر تھا ان کا بہت سے لوگوں پر کئی دفعہ بعض فتنے اٹھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے ان کے نیک اثر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ کوششیں ناکام رہیں۔ان کا وصال سارے نائجیریا کی جماعت کے لیے بڑا ہی اندوہناک واقعہ ہے اور اس پہ ہم ساری جماعت ان سے تعزیت کرتی ہے۔اللہ تعالیٰ ایک سے ایک بڑھ کر سعید فطرت رہنما ان کو عطا کرتا چلا جائے۔جو اسلام کے ہر رنگ میں فدائی اور شیدائی ہوں۔دوسرا جنازہ ہے مکرم فیض رسول صاحب کا۔ان کو انگلستان کی جماعت جانتی ہے۔یہ مغربی بنگال کے رہنے والے تھے اور بڑی عمر میں چند سال پہلے انگلستان میں انہوں نے بیعت کی اور سلسلہ عالیہ احمد یہ میں داخل ہوئے۔ان کا بیعت کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے۔لائبریری میں کتب تلاش کرتے ہوئے ان کو تذکرہ نظر آیا یعنی انگریزی کاVersion اور تذکرہ پڑھتے پڑھتے ہی ان کے دل کے سارے تالے کھل گئے اور انہوں نے سوچا یہ تو لا ز ما سچا ہے۔جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا یہ سلوک اور یہ الہامات ہیں۔اور تذکرہ پڑھتے ہی احمدی ہونے کا فیصلہ کیا لیکن اس سے پہلے لیسٹر کے علماء کو اور بعض دیگر علماء کو خطوط لکھے کہ میں احمدی ہونے پر آمادہ ہو گیا ہوں لیکن تمہیں موقع دینا چاہتا ہوں۔اس لئے احمدیت کے خلاف جتنے بھیا نک اور گندے اور خوفناک اعتراضات ہیں وہ سارے مجھے بھجوا دو تا کہ میں ان کا مطالعہ کروں۔چنانچہ انہوں نے ان کا مطالعہ کیا اور انہوں نے کہا کہ اس میں تو کچھ (ربوہ وقف جدید میں تھا ان دنوں مطالعہ کے لئے اور میں بہت متاثر ہوا بڑی اچھی کتاب تھی۔بھی نہیں صرف لچر اور لغو باتیں ہیں اور کہاں تذکرہ کا جو اثر تھا میرے دل پر اور کہاں وہ گندے اعتراضات اور لغو اور بے معنی باتیں۔میں نے ان کے لکھ دیا کہ کوئی اثر بھی مجھ پر تمہارے اعتراضات کا نہیں ہے۔اگر تم مناظرہ مجھ سے کرنا چاہتے ہو ( انہوں نے بتایا تھا یہ واقعہ مجھے ) تو مناظرہ آ کر لو اور چیلنج دیا، مختلف جگہ لکھا اور زبانی بھی دیا لیکن کوئی ان کے مقابلے پر آیا نہیں۔پھر انہوں