خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 482 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 482

خطبات طاہر جلد ۶ 482 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء لئے وہ جو نسبتاً بڑی عمر کے ہیں زیادہ تربیت یافتہ ہیں جو بار بار جلسے سن چکے ہیں ان کو چاہئے کہ یا انتظام کو چاہئے کہ ایسا انتظام کرے کے نمازوں کے وقت نو مبائعین اور نو جوانوں کو ڈیوٹی سے سہولت دے دی جایا کرے اور وہ نمازوں میں شامل ہوا کریں اور جلسوں کے وقت ان کو ڈیوٹی سے سہولت دے دی جایا کرے اور وہ جلسے میں شامل ہوا کریں۔ایک اور پہلو بھی اس کا ہے جس سے ہم مرکز میں فائدہ اٹھاتے رہے ہیں کہ بعض انتظامات جہاں سے الگ ہونا ممکن نہیں وہاں لاؤڈ سپیکر کا انتظام کر دیا جاتا ہے۔جہاں تک اس پہلو کا تعلق ہے میرا خیال ہے کہ گزشتہ سال بھی یہاں اس قسم کا انتظام ہوا تھا اور چونکہ لاؤڈ سپیکر کے انتظام کی ٹیم ربوہ سے ہی آتی ہے بیشتر اس لئے ان کو ان سب باتوں کا علم ہے اس لئے دہرانے کی ضرورت نہیں۔جہاں جہاں بھی ممکن ہو وہ ایسے چھوٹے لاؤڈ سپیکر مہیا کر دیں کہ جن لوگوں کے لئے انتظام چھوڑ کر جلسوں میں آنا ممکن نہیں وہ وہاں بیٹھے بھی ان جلسوں کو سن سکیں۔آخری بات یہ میں کہوں گا کہ حسن خلق کی کوئی قیمت نہیں ہے۔نہ آپ کو خلق لینے کے لئے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں اور نہ جس کو آپ خلق عطا کرتے ہیں، اپنے خلق کی لذت بخشتے ہیں اس کو اس خلق کے لئے کوئی پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔اس لئے یہ بہت ہی ضروری ہے کہ انتظامات میں حسن خلق پر بالعموم زور دیا جائے۔آنے والوں سے محبت اور پیار کا سلوک کریں اور روز مرہ اپنے عام عادات میں یہ بات داخل کر دیں کہ آپ نے خوش کرنا ہے کسی کو خوش کرنے میں تو کوئی محنت زیادہ نہیں کرنی پڑتی بلکہ حقیقت میں یہ ایک نفسیاتی نکتہ ہے کہ خوش کرنے والا خوش ہوئے بغیر کسی کو خوش کر ہی نہیں سکتا۔یہ یا درکھیں اگر آپ خوش کریں گے تو اسی دوران آپ خوش ہوں گے ضرور کسی کو ہنسانے کی کوشش کر رہے ہوں تو اگر آپ اندر سے پہلے رو بھی رہے تھے تو اس دوران میں آپ کے اندر ایک بشاشت پیدا ہو جائے گی۔اندرونی نفسیاتی تبدیلی کے بغیر بیرونی نفسیاتی تبدیلی ممکن نہیں ہے۔اس لئے حسن خلق کا ایک بہت بڑا پھل جو ساتھ ساتھ انسان کو عطا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ دوسروں کو خوش کرنے کی خاطر خود بخود خوش ہوتا چلا جاتا ہے اور ایک خلیق آدمی بہت بہتر زندگی گزار رہا ہوتا ہے ایک بدخو آدمی کے مقابل پر۔بدخو آدمی دوسروں کو بھی تکلیف پہنچا رہا ہوتا ہے اور خود بھی مسلسل تکلیف میں مبتلا رہتا ہے۔ایک عذاب میں ہر وقت جلتا رہتا ہے، گڑھتا رہتا ہے، غصے میں