خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 473 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 473

خطبات طاہر جلد ۶ 473 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء چونکہ یورپ میں اور پاکستان کے علاوہ اور ہندوستان کے علاوہ دیگر ممالک میں جلسہ سالانہ کے متعلق ویسی تربیت نہیں دی جاتی رہی جو ہمیشہ سے جماعت احمدیہ کے ان کارکنان کو ملتی ہے جو قادیان میں جلسے کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں یار بوہ میں آکر یہاں کے جلسے سے متعلق رہے ہیں۔اس لئے میری گزشتہ چند سالوں میں یہی کوشش رہی ہے کہ رفتہ رفتہ بیرونی انتظامی ڈھانچوں کو بھی مرکزی انتظامی ڈھانچوں کے عین مطابق کر دیا جائے اور ویسی ہی تربیت دی جائے بیرونی کارکنان کو جیسی مرکز میں ہمیں ملتی رہی۔اس سے ایک عالمی یک جہتی پیدا ہوگی اور دوسرے اس نظام میں عام دنیا کے نظام سے ایک فرق بھی ہے۔غیر معمولی طور پر اخلاقی پہلوؤں پر وہاں زور دیا جاتا ہے جو عام دنیا کے انتظامات میں نہیں دیا جاتا۔اس لئے ضروری ہے کہ مزاج بھی وہی رہے انتظام کا جو ہمیشہ سے روایہ مرکز کا مزاج چلا آ رہا ہے۔اس پہلو سے پہلی میری نصیحت تو یہ ہوگی کہ انتظامیہ میں اس بات کو داخل کریں کہ تربیت کا ناظم بھی موجود ہو۔یہ قادیان میں بھی ہوا کرتا تھار بوہ میں بھی ہوتا تھا، میں خود بھی لمبے عرصے تک رہا ہوں۔بعض دفعہ مہمان نوازی کے شعبے سے اس کو منسلک کر دیا جاتا تھا، الحاق کر دیا جاتا تھا اس کا بعض دفعہ الگ رکھا جاتا تھا مگر بہر حال ایک الگ ناظم تربیت موجود ہوتا تھا جو میں سمجھتا ہوں جہاں تک مجھے یاد ہے یہاں کے انتظام میں شامل نہیں ہے۔اس لئے ایک ناظم تربیت بنایا جائے جو نو جوان نسلوں کی تربیت کے لئے اپنے ساتھ ایک با اثر نسبتاً معمر دوستوں کی ٹیم بنائے اور عموماً ناظم تربیت معمر لوگوں میں سے ہی چنا جاتا ہے جب ایسا ہو تو جو افسر مہمان نوازی ہے اس کو چونکہ زیادہ تجربہ ہوتا ہے اس کے ساتھ اس کو ملحق کر دیتے ہیں اور اگر خود وہ تجربہ کار ہوتو پھر آزاد بھی رکھ دیا جاتا ہے۔بہر حال یہاں بہتر ہے کہ ہمارے امام صاحب ہیں ان کے ساتھ اس شعبے کو ملحق کر دیا جائے تا کہ براہ راست ان سے وہ نصیحت حاصل کریں اور طریقہ سیکھیں کہ کس طرح تربیت کرنی ہے۔بہت سارے نوجوان ہیں جن بے چاروں کو ہمارے پرانے روایتی آداب کا علم بھی نہیں ہے اور یورپ میں یہ ایک بڑا اچھا موقع ہوتا ہے اجتماع کے وقت وہ شکلیں دکھانے لگ جاتے ہیں جو عام حالات میں ویسے نظر بھی نہیں آتے بعض۔اب تو خدا کے فضل سے غیر معمولی فرق پڑ چکا ہے۔وہ چہرے جو شروع میں مجھے کبھی کبھی دکھائی دیتے تھے اب وہ کثرت سے دکھائی دینے لگے ہیں