خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 474

خطبات طاہر جلد ۶ 474 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء اور جو نہیں دکھائی دیتے تھے وہ دکھائی دینے لگ گئے ہیں اور دن بدن اللہ تعالیٰ اس لحاظ سے بھی جماعت بڑھا رہا ہے کہ جو جماعت کہلاتی تھی اور عملا نہیں تھی وہ پھر جماعت بن گئی ہے اور علاوہ ازیں اضافہ ہورہا ہے بڑی کثرت کے ساتھ غیروں میں سے۔اس پہلو سے بھی نظام تربیت کا قائم کرنا ضروری ہے کہ نئے آنے والے تربیت کے محتاج ہیں اور نئے آنے والوں سے جو سلوک کیا جاتا ہے وہ سلوک کرنے والے تربیت کے محتاج ہیں۔بسا اوقات یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک نیا آنے والا اپنے آپ کو اجنبی محسوس کرتا رہتا ہے اور اس کے گرد و پیش کہ جو لوگ ہیں وہ شاید یہ سمجھ کر کہ ہمارا واقف نہیں ہے اس کی طرف توجہ نہیں کرتے ، اس سے اس کی زبان میں گفتگو کی کوشش نہیں کرتے ، اس کو اعزاز دینے کی کوشش نہیں کرتے حالانکہ تالیف قلب کا جو مضمون قرآن کریم میں بیان ہوا ہے اس کا مطلب صرف یہ نہیں ہے کہ صرف مال خرچ کروان پر۔مِمَّا رَزَقْنَهُمْ يُنْفِقُونَ (البقره:۴) کے تابع جو کچھ تمہیں خدا نے عطا کیا ہے نئے آنے والوں پر وہ خرچ کرنا چاہئے ، حسن خلق کا مظاہرہ کرنا چاہئے ، نرمی محبت اور پیار سے ان لوگوں کے دل جیتنے چاہیئے، ان کو اعزاز دینا چاہئے وہ محسوس کریں کہ ہم ایسی جگہ آئے ہیں جہاں ہمارے ساتھ غیر معمولی تکریم کا معاملہ کیا جارہا ہے ، عزت کے ساتھ پیش آیا جارہا ہے۔تو ہر نئے چہرے کو جب آپ دیکھتے ہیں اس کے ساتھ کس طرح حسن سلوک کرنا ہے اگر اس کی زبان نہیں آتی تو کیا کرنا چاہئے۔اس قسم کے معاملات میں باقاعدہ تربیت دینے کی ضرورت ہے اور ناظم تربیت کو چاہئے کہ وہ امام صاحب سے، ہمارے عطاء المجیب راشد صاحب سے اچھی طرح معاملہ سمجھ کر پھر آگے اپنے کارکنان کو سمجھائیں۔پھر بعض بیہودہ حرکتیں ہورہی ہوتی ہیں، غیر ذمہ دارانہ غلط جگہ چیزیں پھینکی جارہی ہیں، بلا وجہ شور کیا جا رہا ہے، بہت سارے بد اخلاقی کے مظاہر ہیں جو ان ملکوں میں اجنبی نہیں اور عام گلیوں میں اس سے بہت کچھ زیادہ بھی ہو جائے تو اسے بداخلاقی سمجھا ہی نہیں جاتا لیکن ہمارے اجتماع کی ایک اپنی شان ہے ، اس کی اپنی روایات ہیں۔ان کے پیش نظر نو جوانوں کو بتانا چاہئے کہ میاں ! باہر جا کے تم ان جیسے بنتے رہے بھی ہو تو کم سے کم یہاں تو ہمارے جیسے بنے کی کوشش کرو۔تم ہی لوگوں کا محاورہ ہے کہ جب روم میں جاؤ تو رومنز (Romans) کی طرح رہنا سیکھو۔