خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 471
خطبات طاہر جلد ۶ 471 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء وہ پھر پھولیں پھلیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں اپنے ذمے لیتا ہوں اور اے محمد! یہ اعلان کر دے کہ میرا رب ہے جو تجھ سے وعدہ کرتا ہے۔فَهُوَ يُخْلِفُہ تمہیں اس طرح بارونق کر دے گا ، وہ اس طرح تمہیں نشو و نما بخشے گا ، اک سے ہزار کرے گا ، با برگ و بار کرے گا جس طرح خزاں رسیدہ درخت کے اوپر دوبارہ بہار آجایا کرتی ہے۔تو ان مومنوں کے لئے جن کو پہلے یہ طعنہ ملا تھا کہ تمہارے پاس کچھ نہیں ہے ان کے متعلق یہ نقشہ کھینچنا آخر پر کتنا حیرت انگیز ، کتنا حسین مضمون ہے اور پھر یہ تکرار بتارہی ہے، یہ خدا کا کلام ہے۔ایسی فصاحت و بلاغت ہے اس تکرار میں کہ انسان تعجب سے اس کو دیکھتا ہے۔یہ وہی آیت ہے جس میں بالا خانوں کا مضمون بیان ہوا ہے اور بالا خانے کی جنت کے مضمون میں ہی تکرار پائی جاتی ہے۔ایک عمارت بنی اس کے اوپر پھر ایک اور عمارت تعمیر ہوئی اور یہ ساری آیت یہی نقشہ پیش کر رہی ہے اس طرح۔پہلے فرما دیا ہے کہ انہیں خوب عطا کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ میں رزق دینا ہے، اس کے ہاتھ میں رزق کو تنگ کرنا ہے، یہ کس خدا کے بندوں کو چیلنج کر رہا ہے، یہ پہلے مضمون بیان ہو چکا ہے۔تکرار میں یہ بتایا کہ بار بار خدا ان سے یہ سلوک کرے گا اور اس تکرار میں جونئی باتیں پیدا کر دیں اس کے نتیجے میں یہ اعتراض بھی وارد نہیں ہو سکتا ہے کہ بے وجہ تکرار ہے۔اگر وہ مضمون کسی کو سمجھ نہ بھی آئے تب بھی یہ تکرار اس قسم کی تکرار نہیں کہ بعینہ ایک بات دہرائی جارہی ہو بلکہ جب وہ دہرائی جارہی ہے تو اس میں ایک نئی شان پیدا کی جا رہی ہے، دہرائی جارہی ہے تو اس میں ایک نئے حسن کا اضافہ کیا جا رہا ہے۔اس پہلو سے یہ آیات خدا کی راہ میں خرچ کرنے والوں کے لئے ایک انتہائی عظیم الشان خوشخبری رکھتی ہیں۔ایسی خوشخبری جس میں خدا تعالیٰ کے پیار کا بھی اظہار ہے بار بار اور بڑے ہی لطیف رنگ میں پیار کا اظہار فرمایا گیا ہے۔گزشتہ جمعہ پہ چونکہ میں نے یہ مضمون بیان کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے جماعت کو نہایت تنگی کے حالات میں بھی غیر معمولی قربانی کی توفیق بخشی ہے اس لئے ان آیات کا مجھے خیال آیا کہ نہایت مناسب ہوگا کہ انہی آیات کو اس خطبہ کا عنوان بنایا جائے اور کیونکہ آخرتان اس آیت پر ٹوٹی تھی ، بات یہاں پہنچ کر مکمل ہوئی تھی جو پہلے نہیں ہو سکی اس لئے میں نے دوبارہ آج اسی مضمون کو لیا ہے۔ایک آدمی نہیں، دو نہیں ، تین نہیں بیسیوں ایسے خطوط مجھے انہی دنوں میں ملے جن میں یہ ذکر