خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 470 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 470

خطبات طاہر جلد ۶ 470 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء کر گیا، آپ کی جنسی آپ کے ماحول پر ظاہر نہیں ہوئی، اس کے نتیجے میں آپ کے گردو پیش کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی، آپ کے اندر ایک تبدیلی پیدا ہوئی ہے اندرونی طور پر۔اس لئے ایسے فعل کو جس کے نتیجے میں ایک انسان کا فعل اس کی ذات کو متاثر کرے لیکن دوسری ذات کو وہ متاثر نہ کرے اُسے لازم کہتے ہیں۔میں اٹھا۔آپ اٹھے آپ کے اندر تبدیلی ضرور ہوئی ہے کیونکہ فعل کا مطلب ہی یہی ہے کہ کوئی تبدیلی واقع ہوئی ہے لیکن کسی اور وجود پر اس تبدیلی نے اثر پیدا نہیں کیا لیکن ہم جب اردو میں ایک ”الف“ کی زیادتی کرتے ہیں بیچ میں تو ہم کہتے ہیں ہنسایا، اٹھایا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ میں نہیں ہنسا یعنی ہو سکتا ہے کہ ہنسا ہو لیکن اپنے بننے کی کوئی بات نہیں ہو رہی ، میں نے دوسرے کو ہنسایا ہے، میں اپنے اٹھنے کی بات نہیں کر رہا میں نے دوسرے کا اٹھایا تو ایک’الف‘‘ نے اس لازم کو متعدی بنا دیا۔اسی طرح عربی زبان میں باب افعال بھی ایک الف کو زائد کرتا ہے لیکن آغاز میں زائد کرتا ہے اور لازم افعال کو متعدی میں تبدیل کر دیتا ہے لیکن اس لفظ میں خاص دلچسپ بات یہ ہے کہ باب افعال میں جا کر بھی بعض صورتوں میں یہ لازم رہتا ہے اور بعض صورتوں میں متعدی بن جاتا ہے مثلاً عرب کہتے ہیں اَخلَفَ الشَّجَرُ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ درخت نے پت جھڑ کے بعد نئی شاخیں نکالیں جب کہ وہ بالکل بے رونق ہو چکا تھا اس میں کچھ بھی باقی نہیں رہا تھا اور جب عرب دعا دیتا ہے کسی کواخلفک اللہ تو مراد یہ ہوتی ہے کہ تیر ضائع شدہ مال خدا تجھے واپس کر دے، جو کچھ تیرے ہاتھ سے جاچکا ہے تجھے پھر اللہ تعالیٰ عطا فر مادے تو یہاں متعدی کے معنوں میں استعمال ہورہا ہے۔ایک ہی جگہ قرآن کریم میں ان معنوں میں خدا تعالیٰ نے یہ لفظ رزق کے بڑھانے کے لئے استعمال فرمایا ہے اور وہ یہ جگہ ہے۔فرماتا ہے۔مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ نقشہ یہ کھینچا ہوا ہے کہ خدا کی راہ میں کچھ ایسے بندے جن کو غیر یہ طعنہ دیتے ہیں کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ، ہم مالدار ہیں تمہارے پاس کچھ نہیں اور اس وجہ سے ان کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ ایسے جنونی بندے ہیں کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ بھی خرچ کر ڈالتے ہیں خدا کی راہ ، میں اسے بھی اپنا نہیں رہنے دیتے اور تو بسا اوقات ان کو دیکھے گا کہ ایک پت جھڑ کا سا سماں اپنے ذاتی اموال کے معاملے میں ان کے اندر ظاہر ہوتا ہے اور جو کچھ ہوتا ہے وہ سب جھاڑ کر اپنی ساری رونق اپنے ہاتھ سے فنا کر دیتے ہیں۔ان میں تو یہ طاقت نہیں کہ وہ دوبارہ نشو و نما پائیں ، ان میں بسا اوقات استطاعت نہیں رہتی کہ