خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 469 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 469

خطبات طاہر جلد ۶ 469 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۸۷ء دیئے جائیں گے۔انہیں اپنی بڑائی کا دعوی تھا اور زعم یہ تھا کہ چونکہ ہمیں مالی برتری حاصل ہے اس لئے ہم حق رکھتے ہیں کہ ان ایمان لانے والوں کی مخالفت کریں اور انہیں ہر طرح سے اذیت پہنچا ئیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اعلان دوبارہ کر کہ خدا کی طاقت میں ہے اپنے جن بندوں سے چاہے گا عطا کا سلوک فرمائے گا اور اُن کے رزق میں غیر معمولی برکت بخشے گا اور جن بندوں سے چاہے گا ان سے دوسرا معاملہ کرے گا يَقْدِرُ له ان کا رزق تنگ کر دے گا۔وَمَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُہ کہہ کر اس مضمون کو کھول دیا کہ جن کا رزق بڑھانا ہے وہ کون لوگ ہیں؟ وہ لوگ ہیں جو خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں یعنی تبدیلی جو آنے والی ہے اب یہ بلا وجہ نہیں ہوگی۔ان لوگوں کے رزق میں برکت ڈالی جائے گی جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں، جو خدا تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے رکنے والے ہیں ان کے لئے خدا دوسری تقدیر جاری کرے گا جسے يَقْدِرُ لَہ کے لفظ کے تابع بیان فرمایا گیا ہے۔چنانچہ فَهُوَ يُخْلِفُہ کا مضمون فرمایا کہ ان کے ساتھ یہ معاملہ کیا جائے گا۔اب يُخْلِفُہ سے کیا مراد ہے؟ یہ لفظ بہت دلچسپ ہے۔تین بنیادی حروف اس کا مادہ ہیں: خ ، ل اور ف۔یہ جو ہم لفظ خلاف استعمال کرتے ہیں یہ بھی اسی سے نکلا ہے ، مخالفت بھی اسی سے نکلا ہے اور خلیفہ بھی اسی سے نکلا ہے ، وارث ہونا بھی اسی لفظ سے نکلا ہے حالانکہ بظاہر ان دونوں معنوں میں کوئی جوڑ نہیں ہے۔مخالفت اور وارث ہونے میں تو کوئی نسبت نظر نہیں آتی لیکن عربی زبان کے اندر بعض بہت ہی لطیف حکمتیں ہیں۔اس وقت ان کی بحث کا موقع نہیں صرف اتنا بتانا کافی ہے کہ اس لفظ میں دونوں معنی پائے جاتے ہیں۔جب یہ لفظ نباتات کے متعلق بولا جاتا ہے مثلاً درخت کے متعلق تو عجیب بات ہے کہ بظاہر یہ باب لازم کو متعدی بنانے والا ہے لیکن اس موقع پر یہ لازم کا مضمون اپنے اندر رکھتا ہے اور جب خدا تعالیٰ اس کا فاعل ہو تو پھر یہی لفظ متعدی کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔مثلاً پہلے تو آپ میں سے بہت سے ایسے ہوں گے جنہیں لازم اور متعدی کی اصطلاح معلوم نہ ہو اس لئے میں ان کو سمجھا کر بتاتا ہوں۔لازم اس فعل کو کہتے ہیں جو کہ نتیجے میں کوئی مفعول ظاہر نہ ہو۔فعل تو صادر ہوا ہے لیکن کسی اور وجود پر ظاہر نہیں ہوا مثلاً آپ کہتے ہیں میں ہنسا۔آپ ہنسے، آپ کا یہ فعل کسی دوسرے کو متاثر نہیں