خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 468 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 468

خطبات طاہر جلد ۶ 468 خطبہ جمعہ ۷ ار جولائی ۱۹۸۷ء انسانی فطرت میں خود بخود پیدا ہونے والا خیال نہیں ہے۔یہ عالم الغیب ہستی کی جو باہر سے پیغام دے رہی ہے، جو مستقبل پر بھی نظر رکھتی ہے، انسان کی کمزوریوں پر بھی نظر رکھتی ہے، یہ اسی کا جواب ہے۔اس لئے طرز کلام بتا رہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کا کلام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔اسی طرح اگلی آیت میں قرآن کریم نے ایک ایسی بات کو دہرایا ہے جو پہلے بھی بیان فرما چکا ہے۔جب کفار کا یہ دعوی قرآن کریم نے پیش فرمایا وَ قَالُوا نَحْنُ اَكْثَرُ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا (: ۳۵) وہ کہتے ہیں کہ ہم تم سے اموال میں بھی زیادہ ہیں اور نفری میں بھی زیادہ ہیں۔ان کو جواب دے۔قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ کہہ دے کہ میرا رب رزق کو کشادہ فرماتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے۔وَيَقْدِرُ اور تنگ بھی کر دیتا ہے۔یہ جواب تو دیا جا چکا تھا لیکن اس کے معا بعد پھر خدا تعالیٰ اسی مضمون کی تکرار فرما رہا ہے۔قُلْ إِنَّ رَبِّي يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ اے محمد ! ( گویا یہ بیچ میں حذف ہے کہ پھر یہ اعلان کرو ) دوبارہ یہ اعلان کر دو کہ میرا رب ہی ہے جو رزق کو کشادہ فرماتا ہے لِمَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِو ان کے لئے جو اس کے بندے ہیں۔ان میں سے بعض کے لئے وہ رزق کو کشادہ فرماتا ہے۔یہاں عِبَادِہ کا لفظ بڑھا دیا گیا ہے جو پہلی آیت میں موجود نہیں اور عبادہ کے دو معانی ہیں۔ایک عبد بالعموم یہ معنی رکھتا ہے کہ ہر وہ انسان جو خدا کا پیدا کردہ ہے خواہ وہ کسی قوم نسل، مذہب سے تعلق رکھتا ہو وہ عبد ہے۔ان معنوں میں عبد کا لفظ عام ہے اور عبد کا ایک معنی ہے خدا تعالیٰ کا خاص بندہ جو عبادت کرنے والا ہو اور عبادت کے ذریعے گویا وہ دوبارہ خدا کا بالا راہ عبد بن گیا ہو۔پہلی عبودیت میں تو اس کا اختیار کوئی نہیں تھا۔خدا نے اُسے عبد بنا دیا وہ عبد بن گیا لیکن دوسری عبودیت کی منزل خود بالا رادہ طے کرنی پڑتی ہے۔مِنْ عِبَادِم یہاں رکھ کر اس کے دونوں پہلوؤں کے متعلق اس آیت میں گفتگو فرمائی۔جو خدا کے خالص بندے ہیں ان کے لئے يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاء کا مضمون صادق آنے والا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ اعلان کر کہ خدا ہر حال میں ہمیشہ دستور کے مطابق رزق کو بڑھاتا بھی ہے اور کم بھی کرتا ہے مگر اس موقع پر خدا جن عباد کو اپنا خاص عباد سمجھے گا ان کے لئے رزق بڑھا دے گا، جن عباد کو اپنا عبد نہیں سمجھے گا یعنی فی الحقیقت اور اعلی معنی کے اعتبار سے ان کا رزق کم بھی کر سکتا ہے۔وہ گویا یہ پیشگوئی تھی کہ اب اقتصادی حالات بھی تبدیل کر