خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 467
خطبات طاہر جلد ۶ 467 خطبہ جمعہ ۷ ارجولائی ۱۹۸۷ء ضرور عذاب میں مبتلا کیا جائے گا یہ درست نہیں۔اللہ تعالیٰ مغفرت کا سلوک فرماتا ہے اور اس آیت سے ان کے دعوی کی تشریح فرما دی کہ ہاں جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تم عذاب نہیں دیئے جاؤ گے جو شرارت کے لیڈر ہو ہم یقین دلاتے ہیں کہ تمہیں ضرور عذاب دیا جائے گا۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ تمہاری شرارتوں کی وجہ سے ساری قوم کو عذاب دیا جائے اس کے متعلق ہم قطعی وعدہ نہیں کرتے قطعی و عید نہیں دیتے۔اس میں ایک امید کی کھڑ کی بھی کھول دی گئی ہے۔یہ امکان روشن ہو جاتا ہے کہ باقی قوم کسی وقت ہدایت پا جائے۔ائمۃ التکفیر کے مقدر میں ہدایت نہیں رہتی۔جو شرارت میں بہت بڑھ جاتے ہیں اور بالا رادہ جھوٹ سے کام لیتے ہیں، افترا سے کام لیتے ہیں ان کی فطرتیں ایسی زنگ آلود ہو جاتی ہیں کہ ان کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان کو میں اپنی بخشش۔باہر نکال رہا ہوں ، انہی کا ذکر فرمایا گیا۔باقی قوم کے متعلق اس آیت نے امید کی کھڑ کی کھول دی کہ ان کو کیوں ہم عذاب دیں ان میں بہت شریف النفس لوگ بھی ہیں، لاعلم ہیں سادہ مزاج ہیں تمہاری جھوٹی باتوں میں آگئے ہیں وقتی طور پر لیکن ہمیشہ تمہارے نہیں رہیں گے اور عین ممکن ہے کہ وہ تو بہ کریں اور استغفار کریں اور تمہارا ساتھ چھوڑ کر میرے بھیجے ہوئے محمد مصطفی ﷺ کے غلاموں میں شامل ہو جا ئیں۔پس ہم دیکھتے ہیں کہ اس آیت کے نزول کے بعد یہی واقعہ رونما ہوتا ہے۔کثرت کے ساتھ وہ لوگ جو آنحضرت علیہ کے زمانے میں ائمۃ التکفیر کے پیچھے لگ گئے تھے لیکن ان کی فطرت میں کجی اور شرارت نہیں تھی ان کو اللہ تعالیٰ نے بچالیا، ان کو ہدایت عطا فرمائی یہاں تک کے ان بڑے بڑے لیڈروں کی اپنی اولاد میں سے بھی جو سعید فطرت تھے ان کو بھی خدا تعالیٰ نے ہدایت بخشی۔جہاں قوم کے لئے بالعموم یہ آیت خوشخبری کا رنگ رکھتی ہے وہاں قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت پر بھی دلالت کرتی ہے۔وہاں یہ بھی بتاتی ہے کہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے ورنہ عام انسان جب اس قسم کا کلام بنائے ، عام ہو یا خاص ہو ، وہ اس بات کو پیش نظر رکھے گا کہ دشمن کہتا ہے کہ ہمیں عذاب نہ دیا جائے گا۔میرا جواب یہ ہوگا کہ تمہیں دو ہر اعذاب دیا جائے لیکن یہ امکان باقی نہیں رکھتا انسان عقلاً کہ تم میں سے جو نسبتا کم شریر ہیں جو بالا رادہ شامل نہیں ہوئے ان کو چھوڑ دیا جائے گا یہ