خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 459 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 459

خطبات طاہر جلد ۶ 459 خطبہ جمعہ ارجولائی ۱۹۸۷ء کو یہ پھل لگ گیا حالانکہ امر واقعہ یہ ہے کہ وہی ترکیبیں پہلے ہو چکی تھیں اور ان کو کوئی پھل نہیں لگا تھا۔ اس لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک سازگار ہوا چلائی جا رہی ہے، کچھ پھل ہیں جو پکائے جا رہے ہیں۔ اس لئے کہ جماعت ترقی جماعت ترقی کے بالکل نئے دور با نئے دور میں داخل ہونے والی ہے۔ بہت ہی عظیم الشان ترقیات آپ کا انتظار کر رہی ہیں ۔ ان کے لئے اللہ تعالیٰ آپ کو تیار فرما رہا ہے۔ اس لئے مجھے یقین ہے کہ اگلی صدی میں لکھوکھہا واقفین زندگی کی ضرورت پڑے گی۔ اسی لئے میں نے جماعت میں ایک تحریک کی تھی کہ ابھی سے اپنے بچے پیش کر دیں تا کہ پھر جب ہم صدی میں داخل ہوں تو خدا کے حضور پہلے ہی تیار ہو کر حاضر ہوں اور جب بھی خدا کے حضور کوئی قربانی پیش کی جاتی ہے اس کے لئے مصارف کا انتظام بھی اللہ تعالیٰ خود ہی فرما دیتا ہے۔ اگر لاکھ واقفین آپ پیش کریں گے تو یقین جانیں کہ لاکھ واقفین کے لئے تمام ضروری سامان خدا خود مہیا فرمائے گا۔ مشنوں کے لئے جگہ عطا کرے گا، ان کے تبلیغ کے لئے جتنی بھی ضرورتیں ہیں وہ ضرورتیں پوری فرمائے گا ، ان کے اپنے لئے رزق کا انتظام فرمائے گا اور پھر اسی نسبت سے نئی نئی قوموں میں ، نئے نئے علاقوں میں احمدیت اور اسلام کی طرف رجحان پیدا فرمادے گا۔ تو بعض دعائیں ہوتی ہیں زبان کی دعا ئیں ، بعض ہوتی ہیں عمل کی دعا ئیں۔ یہ بھی میرے ذہن میں ایک بات تھی کہ ہم عملاً خدا کے حضور دعا کے طور پر یہ بچے پیش کر دیں کہ اللہ تیرے حضور حاضر ہیں اب تو سنبھال تیرا کام ہے۔ اب ہمارے نہیں رہے تیرے ہو گئے ہیں تو نے ہی ان کو پالنا ہے تو نے ہی ان کے لئے سارے انتظامات فرمانے ہیں، ان سے کام لینے کے انتظامات فرمانے ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ جماعت بالعموم بہت اچھے طریق پر اس آواز کا جواب دے رہی ہے اور بعض جگہ تو لطیفے بھی بن جاتے ہیں۔ بعض معمر لوگوں نے تو یہ درخواست کی کہ ہمیں دوسری شادی کی اجازت دی جائے کیونکہ ہماری پہلی بیوی اس لائق نہیں رہی کہ اس کے بچہ ہو سکے۔ اس بہانے انہوں نے کہا ہم شادی بھی اور کر لیں گے تو اب بھی مل جائے گا ساتھ اور بیویاں اب کسی طرح انکار کریں گی ، خلیفہ وقت نے تحریک کی ہوئی ہے اور خاوند کہتا ہے میں مجبور ہوں میں نے بچہ پیش کرنا ہے اب بتاؤ بیوی کیا کہہ سکتی ہے بے چاری اور واقعہ احمدی عورتیں اتنی مخلص ہیں کہ بعض یہ کہہ رہی ہیں خود کہ اس معاملے میں ہم تمہیں نہیں روکتیں چنانچہ ان کے اجازت نامے بھی مجھے پہنچ جاتے ہیں