خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 458
خطبات طاہر جلد ۶ 458 خطبہ جمعہ ار جولائی ۱۹۸۷ء جہاں تک اولادوں کے وقف کا تعلق ہے اس ضمن میں ابھی اس شان کی قربانی پیدا نہیں ہوئی تھی کیونکہ مختلف اوقات میں جب وقت کے لئے زور دیا جاتا رہا تو جماعت اپنے جگر گوشے پیش کرتی رہی ہے لیکن درمیان میں بسا اوقات لمبے عرصے پڑ گئے، لمبے وقفے حائل ہو گئے کہ جب خلیفہ وقت نے وقف کی طرف توجہ نہیں دلائی اس لئے جماعت بھی اس معاملے میں خاموش ہو گئی۔چنانچہ آئندہ کی ضرورتوں کے پیش نظر میں نے یہ تحریک کی کہ اپنے بچوں کو اپنی آئندہ نسلوں کو وقف کرو۔اگلی صدی میں ہمارے کام بہت کثرت سے پھیلنے والے ہیں۔ان کے اندازے ابھی سے کچھ ہونے شروع ہو گئے ہیں۔بالکل نئے نئے ممالک کی فتح کے اللہ تعالی سامان پیدا فرمارہا ہے، بنی نئی قوموں میں جماعت کو داخل کر رہا ہے اور خود بخود ہورہا ہے، ہماری کوششوں سے بعض دفعہ تعلق نظر آتا ہے بعض دفعہ کوئی تعلق نظر نہیں آتا۔افریقہ کے ایک ملک میں جہاں خیال تھا کہ ہم وہاں بھی جماعت کا پودا لگائیں گے انشاء اللہ ابھی تک وہ محروم تھا اس پہلو سے۔اس کا ایک سیاح باہر نکلا سپین وہاں مسجد دیکھی اور بیعت کر کے واپس چلا گیا اور اب اس کا خط ملا ہے کہ اب ہماری تربیت کا کچھ کر وسو سے زائد تو احمدی میں بنا چکا ہوں ابھی تک اور چندہ بھی دے رہے ہیں سارے اور مسجد کے لئے زمین بھی پیش کر دی ہے یہ بھی فیصلہ ہے کہ ہم خود ہی بنائیں گے سب کچھ کوئی جماعت پہ بوجھ نہیں ہوگا یعنی مددنہیں مانگیں گے کسی اور سے لیکن ہمیں پھر بھی ، آخر ہم نئے ہیں ہمیں دینی تربیت کے لئے کوئی آدمی چاہئے ، آپ ہمارے لئے کچھ فکر کریں کہیں یہ نہ ہو کے بعض غلط باتیں ہم میں رائج ہو جائے۔تو اس معاملے میں تو جس طرح چھت پھاڑ کر ملتا ہے رزق اسی طرح کی کیفیت ہے کوئی جماعتی کوشش کا اس میں دخل نہیں ہے لیکن بہت سے ایسے وہ مقامات بھی ہیں جہاں بظاہر جماعتی کوشش کا دخل نظر آ رہا ہے لیکن امر واقعہ ہے کہ اللہ کی تقدیر خود پیدا کر رہی ہے سامان۔اس قسم کے واقعات نصیحت کے طور پر ہیں یہ بتانے کے لئے کہ کہیں تم اپنی کوششوں کی طرف ان روحانی پھلوں کو منسوب کر کے متکبر نہ ہو جانا۔یہ نہ سمجھ لینا کہ تم نے کیا ہے۔چونکہ تکبر کا مضمون بیان ہو رہا ہے اس لئے میں اس بات کو بھی کھول دینا چاہتا ہوں کہ نئے نئے علاقوں میں جو جماعت پھیل رہی ہے بعض دفعہ نظر آتا ہے کہ گویا جماعت نے یہ ترکیب کی اور اس