خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 41
خطبات طاہر جلد ۶ 41 خطبہ جمعہ ۱۶/جنوری ۱۹۸۷ء رہنا چاہئے ، رکوع و سجود کی حالت رہنی چاہئے مگر بعض اوقات غیر معمولی طور پر اللہ تعالیٰ کی عظمت ظاہر ہوتی ہے اور بے ساختہ انسان سارے وجود کے ساتھ سجدے میں گر جاتا ہے۔ایسی برکتیں لے کر آیا تھا گزشتہ سال اور اتنی برکتیں چھوڑ گیا ہمارے لئے پیچھے کہ ان کا ذکر بہت وسیع ہے فی الوقت اس مضمون کو تو میں نہیں چھیڑنا چاہتا، مگر میں یہ بتانا چاہتا ہوں کے آنحضرت ﷺ کی عظمتوں کی پیروی کریں، وہ ایک لامتناہی سفر ہے۔آپ کا اگلا سال اس سے بلند تر چوٹیوں کی طرف لے جائے گا۔آپ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ وہ سفر ختم ہو گیا اور برکتوں کے انتہا تک آپ پہنچ گئے۔اتنی بلندیوں تک پہنچیں گے کہ پچھلا سال اس کے مقابل پر پستی دکھائی دے گا۔گہری کھڈ جس طرح دکھائی دیتی ہے اوپر چڑھ کے، یوں معلوم ہوگا کہ ہم نے تو ترقی کی نہیں تھی اور آنحضرت ﷺ کی پیروی اگر آپ اگلے سال اس سے بھی زیادہ شدت اور پیار سے کریں گے تو اس سال جو کچھ بھی آپ نے پایا ہوگا وہ آئندہ سال کے حصول کے مقابل پر بالکل پیچ اور بے معنی دکھائی دینے لگے گا۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے فضل کے ساتھ حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کی حسین اور دلر با اور حقیقی واقعاتی سنت پر ہر پہلو سے پہلے سے بڑھ کر عمل درآمد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ایک پہلو ایسا ہے مختصراً اس کا بیان بھی ضروری ہے کیونکہ لجنہ اماء اللہ کی صدر محترمہ کی طرف سے بار بار مجھے اس بارے میں یاد دہانی ہو رہی ہے۔صدر لجنہ اماءاللہ نے کچھ سال پہلے لجنہ کے دفاتر کی تعمیر نو کے لئے اجازت لی تھی اور ایک وسیع ہال بنانے کی اجازت لی تھی۔پرانی عمارت اتنی بوسیدہ ہو چکی تھی کہ وہ جگہ جگہ سے بعض دفعہ چھت سے بھی اینٹیں ٹوٹ کے گرتی تھیں اور جلسہ سالانہ کے دنوں میں جب ہم وہاں بعض مہمان خواتین کو ٹھہرایا کرتے تھے تو قناتیں لگا کر ساری جگہ تو پھر بھی چھوڑی نہیں جا سکتی تھی کیونکہ مہمانوں کا رش بہت ہوا کرتا تھا۔بعض دفعہ قناتیں لگا کر بعض خطرناک حصوں کو الگ کر دیا جا تا تھا تا کہ وہاں بچہ یا کوئی عورت وہاں نہ پہنچے اور اس طرح گزارہ چلتا رہا۔بالآخر انجینئرز نے مشورہ دیا کہ یہ عمارت اتنی بوسیدہ ہو چکی ہے کہ اب ہرگز لائق نہیں کہ اسے مزید آگے چلایا جائے۔چنانچہ دوحصوں میں ان کی عمارت کی تعمیر نو کا پروگرام بنا، ایک دفتر اور ایک ہال۔دفتر تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے مکمل ہو گیا ہے اور اس پر جو دس لاکھ کی رقم خرچ آئی ہے اس میں سے دس لاکھ ان کو میں نے قرضہ دلوا دیا تھا، چار لاکھ لجنہ اپنی روزمرہ کی بچت میں سے پورا کر چکی ہے واپس دے چکی ہے۔چھ لاکھ کا یہ قرض لجنہ پر ہے۔اس کے علاوہ ہال کے لئے ان کو بیس لاکھ چاہئے۔اگر یہ نہیں لاکھ