خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 42
خطبات طاہر جلد ۶ 42 خطبہ جمعہ ۱۶/جنوری ۱۹۸۷ء قرض انکو دیا جائے تو چھبیس لاکھ کی رقم ہے جو انہوں نے دو سال میں واپس کرنی ہے کیونکہ اگر چہ ان کی طرف سے تو یہی مطالبہ ہے کہ ہمیں صد سالہ جو بلی سے پانچ سال کا قرض دے دیا جائے۔صد سالہ جو بلی تو آنے میں اب دو سال رہ گئے ہیں باقی اس میں سے پانچ سال کا قرض دینے کا مطلب ہی کو ئی نہیں اور یہ ہال بھی صد سالہ جو بلی سے پہلے مکمل ہونا ضروری ہے بہر حال۔اس لئے میں نے سوچا ہے کہ دو سال کے لئے ان کو قرض دیا جائے اور ان کی طرف سے عالمی لجنات کو تحریک کی جائے کہ حسب توفیق جتنا بھی وہ بوجھ اُٹھا سکتی ہیں وہ اس چندے میں حصہ لیں۔گزشتہ دوسال میں جماعت میں بار بارایسی تحریکات کی گئیں کہ اس کے نتیجے میں غیر معمولی مالی قربانی دی ہے جماعت نے۔اتنی غیر معمولی ہے کہ یہ دو تین سال بہت ہی ممتاز دکھائی دیتے ہیں مالی قربانی کے لحاظ سے۔مجھے یقین ہے کہ ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ جماعت کی جیبیں بھی بھرتا چلا جاتا ہے، استطاعت بھی بڑھاتا چلا جاتا ہے لیکن جہاں تک ظاہری فوری طور پر جائزے کا تعلق ہے جو حالات ان پر گزر رہے ہیں ان پر جو میں نے سرسری نگاہ ڈالی ہے میرا خیال ہے کہ خواتین پر اس وقت اتنا بڑا بوجھ ڈالنا مناسب نہیں ہوگا کیونکہ پچھلی تحریکات میں مالی قربانی میں عورتوں نے خصوصیت کے ساتھ اتنا بھر پور حصہ لیا ہے کہ فوری طور پر ان قربانیوں کے معا بعد اتنی بڑی تحریک کر دینا کہ خواتین خودا اپنی طاقت سے یہ بوجھ اٹھا ئیں، یہ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ایک یہ وجہ ہے جس کی وجہ سے میں چاہتا ہوں کہ مرد بھی ان کے ہال میں چندے دے کر اس نیکی میں، اس قربانی میں شامل ہوں۔دوسری وجہ یہ ہے کہ خواتین تو ہر تحریک میں حصہ لیتی ہیں خواہ مردوں کی ہو خواہ عورتوں کی ہو اور صرف خدام الاحمدیہ کی ایسی تحریک ہے جس میں وہ حصہ نہیں لیتیں لیکن دنیا یہ کہتی ہے کہ اسلام نے عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا ان کے متعلق اچھی تعلیم نہیں دی۔اس لئے ہمیں خاص طور پر یہ بھی دکھانا چاہئے کہ عورتوں سے نہ صرف یہ کہ ہم برابری کا سلوک کرتے ہیں یا اسلام برابری کے حقوق دیتا ہے بلکہ ہم ان کے خاص جذبات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ نے جو ان کو بعض پہلوؤں سے بعض لطافتیں عطا کیں ہیں ان کو ملحوظ رکھتے ہوئے آگے بڑھ کر ان کی خدمت میں ان جگہوں میں بھی ہم مدد کے خواہاں ہیں جو خالصہ ان کے اپنے دائرے سے تعلق رکھنے والے امور ہیں یعنی لجنہ اماءاللہ۔یہ وہ دائرہ ہے جس کا لجنہ سے ہی تعلق ہے اور مردوں کے اس قسم کے دائروں سے لجنہ کا تعلق نہیں لجنہ کا ان