خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 439 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 439

خطبات طاہر جلد ۶ 439 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء کرتی تھیں اس لئے اس کو خیال آیا وہ میں نے اس کو کہا کہ لو جتنی چا ہو۔چنانچہ وہ جوس لے کے گیا اور دوسرے دن آیا کہ وہ تو بڑے شوق سے پینے بھی لگ گئے ہیں اور کھانا بھی مانگنے لگ گئے ہیں۔میں نے کہا اب خدا کے فضل سے بچ گئے ہیں۔چنانچہ اس کے بعد انہوں نے چند مہینے کے اندر ہی پوری بظاہر صحت کے ساتھ رپورٹ کر دی کام یہ اور باقاعدہ کام کرتے رہے لیکن معلوم ہوتا ہے کینسر کے کچھ اثرات ضرور تھے طبیعت پہ کیونکہ جب ملتے تھے تو معلوم ہوتا تھا کسی تکلیف کی وجہ سے کوئی انسان دباتا ہے یا ایک پوری ہوش کی حالت نہیں ہوتی مگر یہ اللہ کا فضل ہوا کہ شدید بیماری کے رنگ میں جو مہلک ثابت ہواس کینسر نے دوبارہ پھر اپنی کوئی صورت نہیں دکھائی۔ورنہ بالعموم ایسے کینسر جو اس انتہا کو پہنچ چکے ہوں وہ تیسرے یا چوتھے سال دوبارہ حملہ کرتے ہیں اور آخری حملہ ہوا کرتا ہے۔مگر بڑا خدا نے اپنا فضل دکھا یا تو ان کے وصال کی ابھی اطلاع ملی ہے۔ان کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔ایک سید نذیر احمد شاہ صاحب ہیں جو ہمارے سلسلہ کے پرانے کارکن تھے۔پہلے صدر انجمن میں انسپکٹر ہوا کرتے تھے پھر ریٹائر منٹ کے بعد تحریک جدید میں انسپکٹر ہوئے۔ان کا ہارٹ فیل ہوا ہے چند دن ہوئے۔ان کے افسر کی بھی درخواست تھی کہ ان کی نماز جنازہ پڑھائی جائے۔محمد اشرف صاحب حجہ ، ان کے والد رحمت علی صاحب حجہ لکھتے ہیں کہ تمیں سال کی عمر کا جوان بیٹا ایک بس کے حادثے میں شہید ہو گیا ہے اس کے لئے مغفرت کی دعا اور نماز جنازہ غائب۔ایک سید بشیر احمد شاہ صاحب ابن سیدامیر شاہ صاحب درخواست منجانب ذکیہ مرزا صاحبه آف لنڈن ہے۔ذکیہ مرزا صاحبہ ہمارے لنڈن کی جماعت کی خاتون ہیں انہوں نے لکھا ہے کہ میرے ماموں تھے میں تو ذاتی طور پر نہیں جانتا مگر بہر حال ان کو بھی اس فہرست میں شامل کیا جائے۔