خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 438 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 438

خطبات طاہر جلد ۶ 438 خطبہ جمعہ ۲۶ جون ۱۹۸۷ء جاتے ہیں اور وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ ابتلا کے گزرنے کے بعد جو فتح کا احساس ہے وہی ہماری جزا ہے وہ کم فہم لوگ ہیں ان کو معلوم نہیں ہے کہ وہ جز انہیں ہوا کرتی۔جزا ایک لمبی اور باقی رہنے والی جزا ہوا کرتی ہے یعنی الہی معاملات میں وہ جزا ایک آنے جانے والی چیز ہے جس کی کوئی لمبی حقیقت نہیں ہے۔وہ فتح ضرور نصیب ہوگی لیکن یہ ماحصل ہے ہماری قربانیوں کا جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمایا ہے۔اس دور میں سے گزرتے ہوئے ہم تقویٰ کی حالتیں اپنی مضبوط کر لیں، اپنی کمزوریوں کو دور کر دیں اور رضائے باری تعالیٰ کے حصول میں فکر مند اور غلطاں رہیں اور کوشش کرتے رہیں کہ ہم مقبولیت کے مینار پر فائز کئے جائیں یعنی خدا کی مقبولیت پیش نظر ہو دنیا کی آنکھ پیش نظر نہ ہو۔یہ اگر ہمیں حاصل ہو جائے تو ایک ہمیشہ کے لئے باقی رہنے والی فتح ہے جسے کوئی دنیا کی قوم مٹا نہیں سکتی۔خدا کرے کہ ایسا ہی ہو۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج نماز جمعہ کے بعد چار مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔پہلے مکرم جمال الدین صاحب قادیانی جو وقف جدید کے معلم تھے اور غریب مزاج اور بڑے مخلص فدائی سلسلے کے کارکن تھے۔بہت لمبی بیماری کے باوجود کام نہیں چھوڑا اور خدمت سے روگردانی نہیں کی۔آج سے قریبا دس بارہ سال پہلے شاید اس سے بھی کچھ زیادہ عرصے ہو گیا ہوان کو جگر کا کینسر ہو گیا تھا اور لاعلاج کر کے میو ہاسپٹل سے نکال دئے گئے پھر ہمارے ربوہ کے ہسپتال میں بھی داخل ہوئے اور وہاں سے بھی بالآخر ان کو لا علاج کر کے فارغ کر دیا گیا اور ان کا بچہ روتا ہوا آیا میرے پاس کہ اب تو انہوں نے کہا ہے کہ دو تین دن کے اندر ان کی موت یقینی ہوگئی ہے اب کچھ نہیں کیا جا سکتا۔اس بچے کی کچھ حالت ایسی تھی کہ میرے دل سے خدا تعالیٰ کے لئے خاص گریہ وزاری کے ساتھ دعا بلند ہوئی اور اس کے لئے میں نے ہومیو پیتھک علاج بھی شروع کیا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ تین دن میں مرنے کی بجائے تقریبا تیسرے دن ہی بچہ میرے پاس آیا کہ آپ کے پاس کوئی مالٹے کے جوس کی بوتل ہے۔میں نے کہا کیوں؟ ان نے کہا کہ پہلی دفعہ اس چھ سات مہینے کے بعد اس بیماری میں میرے ابا کے دل میں خواہش پیدا ہوئی ہے کہ میں کچھ پیئوں ور نہ نہ غذا کی خواہش تھی نہ پانی کی کوئی تمنا تھی۔تو جوس کی بوتلیں ہمارے وقف جدید میں چونکہ بنا