خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 437
خطبات طاہر جلد ۶ 437 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء کی عبارت پڑھ کہ پھر مجھ آئی کہ وہ کیا حرکتیں کیا کرتا تھا۔وہ جانتا تھا کہ اگر ایک گلا ہو حصہ اس کے ساتھ باقی رہنے دیا گیا تو رفتہ رفتہ باقی حصے کو بھی وہ گلا دے گا۔اس لئے پیشتر اس کے کہ اس کو یہ موقع ملے کے وہ چھا جائے باقی حصے پر وہ اس کو کاٹ کر الگ کر دیتا تھا۔ابتدا میں ایسا ہونا ممکن ہے۔جب بدی عمل میں ڈھل جاتی ہے، جب خیال ایک برائی کی صورت پکڑ جاتا ہے اس وقت اس کا مقابلہ بہت مشکل ہو جاتا ہے۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تقویٰ کے حصول کا ایک عظیم الشان راز یہ سمجھا دیا ہے۔دل میں جب خیال اُٹھتے ہیں اس وقت اس کو پکڑو ، اس وقت ان کو نظر کے سامنے پھیرنا شروع کرو۔جو اچھے خیالات ہیں ان کو اور نشو ونما دو، ان کو اور پیار کے ساتھ بڑھاؤ اور جو خیالات گندے نظر آتے ہیں ان کو ایک طرف کرتے چلے جاؤ۔مگر جو لطف کی بات ہے وہ اس عبارت میں یہ ہے کہ آپ نے کسی خیال کو پورا گندہ اور کسی خیال کو پورا پاک نہیں قرار دیا۔عام انسانی تجربہ میں یہی بات معلوم ہوتی ہے کہ ہمارے گندے خیالات میں بھی کچھ نہ کچھ نیکی کے پہلو بھی ہوا کرتے ہیں اور ہمارے اچھے خیالات میں بھی کہیں نہ کہیں ریاء کا کیڑا یا کوئی اور ذاتی خواہشات کا رنگ داخل ہو کر اس نیکی کے خیال کو ذرا کچھ گندہ کر دیتا ہے۔تو آپ فرماتے ہیں اپنے خیالات کو یا بالکل رد یا بالکل مقبول نہ کرو بلکہ پرکھا کرو فکر ونظر کی آنکھ سے دیکھو اور الٹاؤ پلٹا اور دیکھو کون سا حصہ گندہ ہے؟ کون سا حصہ رکھنے کے لائق ہے؟ جور رکھنے کے لائق ہے اسے سنبھال لو اور جو گندہ ہے اسے کاٹ کے پھینک دو۔تو تقویٰ کے حصول کی اس سے زیادہ آسان راہ جو ہر انسان کی دسترس میں ہے اور سوچی بھی نہیں جاسکتی اور بہت ہی با اثر ہے۔حیرت انگیز اس کے نتیجے میں انسان کی زندگی پر اثرات مترتب ہو سکتے ہیں اس کی ساری زندگی کی کایا پلٹ سکتے ہیں ، سارے اعمال کی شکل تبدیل کر سکتے ہیں۔پس میں امید رکھتا ہوں کہ جماعت اس ابتلا کے دور سے اس قسم کے فائدے اٹھائے گی۔یہ فائدے ہماری جھولیوں میں باقی رہنے والے فائدے ہیں، یہ فائدے ہیں جو اس دنیا میں بھی ہمیشہ ہمارا ساتھ دیں گے بلکہ ہماری نسلوں پر بھی نیک اثر ڈالیں گے۔نسلاً بعد نسل یہ چیز میں جو آج ہم سیکھیں گے اس ابتلا کے دور سے یہ ہماری اولا د کو ورثے میں ملتی چلی جائیں گی اور پھر ہماری بھی اور ان کی بھی دوسری زندگی میں بھی کام آنے والی چیزیں ہیں۔وقتی طور پر ابتلا آتے ہیں اور گزر بھی