خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 433
خطبات طاہر جلد ۶ 433 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء پس خدا تعالیٰ کے متعلق جو یہ فرمایا ہے کہ ناراض سا بن کر دکھایا ان کو یہ کوئی غیر حقیقی چیز نہیں ہے عملاً تعلقات کے دائروں میں ایسا ہوا کرتا ہے اور اس کے بعد جو محبت کا پھل ایک محبت کرنے والے کو نصیب ہوتا ہے وہ پہلی حالت سے بہت زیادہ بہتر حالت میں اس کو لے جاتا ہے۔اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے۔یہ عبارت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس وقت لکھی ہے اس کو تقریبا نوے سال گزر چکے ہیں اور اس وقت کوئی ایسی کیفیت نظر نہیں آتی تھی۔جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی کے حالات کا آپ مطالعہ کر سکتے ہیں آپ کو یہی ملے گا کہ آپ کی دعا میں مقبول ہو رہی تھیں جس دور میں یہ کتاب لکھی گئی ہے خصوصیت کے ساتھ ، سبز اشتہار کا دور ہے اور دشمن ذلیل وخوار ہورہا تھا اور بڑے بڑے دشمن جو مقابلے کے لئے نکلے خدا تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر کر کے دکھایا۔یہ آئندہ کسی دور کی طرف اشارہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا اور آئندہ کسی دور کے لئے جماعت کو تیار فرما رہے تھے۔چنانچہ فرمایا ایسا بھی ہوتا ہے کہ عام کم فہم لوگ یا ایمان میں ناقص لوگ یہ باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ خدا تو دشمن پر مہربان دکھائی دینے لگا ہے۔بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا ہے۔ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلا نازل ہوا۔یہ واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تو ہمیں نظر نہیں آرہے۔یہ آج کا زمانہ ہے جس کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت کھینچا اور یقینا اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ خبروں کے نتیجے میں آپ یہ کلام کر رہے ہیں۔غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت وبسختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں اور وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادے سے باز نہ آئے اور سُست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب اور شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور