خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 433 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 433

خطبات طاہر جلد ۶ 433 خطبه جمعه ۲۶ جون ۱۹۸۷ء پس خدا تعالیٰ کے متعلق جو یہ فرمایا ہے کہ ناراض سا بن کر دکھایا ان کو یہ کوئی غیر حقیقی چیز نہیں ہے عملاً تعلقات کے دائروں میں ایسا ہوا کرتا ہے اور اس کے بعد جو محبت کا پھل ایک محبت کرنے والے کو نصیب ہوتا ہے وہ پہلی حالت سے بہت زیادہ بہتر حالت میں اس کو لے جاتا ہے۔ وو اور اپنے تئیں ایسا خشک سا دکھلایا کہ گویا وہ ان پر ذرا مہربان نہیں بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے۔ یہ عبارت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس وقت لکھی ہے اس کو تقریبانوے سال گزر چکے ہیں اور اس وقت کوئی ایسی کیفیت نظر نہیں آتی تھی۔ جہاں تک حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کی زندگی کے حالات کا آپ مطالعہ کر سکتے ہیں آپ کو یہی ملے گا کہ آپ کی دعا ئیں مقبول ہو رہی تھیں جس دور میں یہ کتاب لکھی گئی ہے خصوصیت کے ساتھ سبز اشتہار کا دور ہے اور دشم اور دمن ردشمن ذلیل و خوار ہو رہا تھا اور بڑے بڑے دشمن جو مقابلے کے لئے نکلے خدا تعالیٰ نے ان کو خائب و خاسر کر کے دکھایا۔ یہ آئندہ کسی دور کی طرف اشارہ تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے فرمایا اور آئندہ کسی دور کے لئے جماعت کو تیار فرما رہے تھے۔ چنانچہ فرمایا ایسا بھی ہوتا ہے کہ عام کم فہم لوگ یا ایمان میں ناقص لوگ یہ باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ خدا تو دشمن پر مہربان دکھائی دینے لگا ہے۔ بلکہ ان کے دشمنوں پر مہربان ہے اور ان کے ابتلاؤں کا سلسلہ بہت طول کھینچ گیا ہے۔ ایک کے ختم ہونے پر دوسرا اور دوسرے کے ختم ہونے پر تیسرا ابتلا نازل ہوا۔ یہ واقعات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں تو ہمیں نظر نہیں آرہے۔ یہ آج کا زمانہ ہے جس کا نقشہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس وقت کھینچا اور یقیناً اللہ تعالیٰ کی عطا فرمودہ خبروں کے نتیجے میں آپ یہ کلام کر رہے ہیں۔ غرض جیسے بارش سخت تاریک رات میں نہایت شدت و سختی سے نازل ہوتی ہے ایسا ہی آزمائشوں کی بارشیں ان پر ہوئیں اور وہ اپنے پکے اور مضبوط ارادے سے باز نہ آئے اور سُست اور شکستہ دل نہ ہوئے بلکہ جتنا مصائب اور شدائد کا باران پر پڑتا گیا اتنا ہی انہوں نے آگے قدم بڑھایا اور