خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 428 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 428

خطبات طاہر جلد ۶ 428 خطبہ جمعہ ۲۶/ جون ۱۹۸۷ء فرمایا: ” قبولیت کے بلند مینار تک پہنچا دے۔وہ پہلے بھی مقبول ہوتے ہیں لیکن ایسے مقبول جو نظر سے غائب ہیں۔اگر دنیا کی نظر میں وہ مقبول ٹھہرتے تو ان کی مخالفت کبھی نہ کرتے لیکن بلند مینار پر فائز چیز تو دور دور سے دنیا کو دکھائی دینے لگتی ہے۔اس محاورے میں ان کی شان کا بھی اظہار ہے اور ان کی شان کا دنیا پر ظاہر ہونے کا بھی اظہار ہے پھر وہ چھپے ہوئے مقبول نہیں رہتے بلکہ دور دور تک ان کی قبولیت کی شہرت پھیلتی ہے، ایسے واقعات ان کے حق میں رونما ہوتے ہیں جن کے نتیجے میں قومیں دور دور سے ان کی مقبولیت اور ان کی فتح کے گیت گانے لگتی ہیں اور ان کی حیرت انگیز فتح کی مثالیں دی جانے لگتی ہیں۔تو ایک چھوٹے سے فقرے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک بڑے گہرے اور وسیع فلسفے کو بیان فرمایا اور ایک انتہائی معجزانہ کلام کے ذریعے جو فتح فصاحت و بلاغت کا مینار ہے اس مضمون کے ہر پہلو پر روشنی ڈال دی۔پھر فرماتے ہیں : ” اور الہی معارف کے بار یک دقیقے ان کو سکھا دے“۔ابتلا کے دور کا معارف سیکھنے کے ساتھ جو تعلق ہے یہ ایسی بات نہیں ہے جو کسی عام شخص کو معلوم ہو سکے۔کوئی دنیاوی عقل اور دنیاوی علم رکھنے والا ایسی بات کر ہی نہیں سکتا۔یہ وہ خاص مقامات ہیں جہاں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت ایک پہاڑی چشمے کی طرح خود بخود پھوٹتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔یہ صرف صاحب عرفان کا کام ہے کہ اس قسم کی بات کرے کہ ابتلا کے دور سے گزر کر عرفان کے باریک اور دقیق نکات انسان کو معلوم ہوتے ہیں اور امر واقعہ یہ ہے کہ اس وقت جماعت جو ابتلا کے دور میں سے گزر رہی ہے اس پر عرفان کی بارش نازل ہو رہی ہے۔وہ لوگ جو مصیبتوں میں سے گزرتے ہیں ان حالتوں میں مجھے خط لکھتے ہیں یا اس کے بعد لکھتے ہیں یا مصیبتیں جب ان کے اوپر حملہ آور ہونے کے لئے تیار کھڑی ہوتی ہیں اس حالت میں خط لکھتے ہیں۔ان خطوں کے اندر جو معارف اور نکات بیان ہوتے ہیں وہی لوگ جو اس سے پہلے خط لکھتے رہے ان خطوں اور ان خطوں کے درمیان کوئی آپس میں نسبت نہیں ہوتی۔معمولی ان پڑھ لوگ ایسے ایسے معرفت کے نکتے سمجھ جاتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے لیکن ظاہری طور پر اس کا کوئی تعلق نہیں ہے اس سے۔خوف کے وقت تو اور کسی چیز کی ہوش ہی نہیں ہوا کرتی اپنے جسم کی ، اپنی جان کی ، اپنے عزیزوں کی ، اپنے مال کی ان چیزوں کی فکر ہوا کرتی ہے۔اس وقت معرفت کے نکتے سیکھنے کا کونسا