خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 420 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 420

خطبات طاہر جلد ۶ 420 خطبہ جمعہ ۱۹/ جون ۱۹۸۷ء بعد جب ہماری کوششوں کا پھل ختم ہو جائے ، ہماری کمائی جہاں تک پہنچتی ہے وہاں تک جا کر وہ پھل رُک جانا چاہئے۔میں نے کہا یہ بھی وہی بات ہے اس کا وہی فلسفہ ہے کہ خدا تعالیٰ یہ بتاتا ہے کہ اگر تم ہمیشہ کے لئے زندہ رکھے جاؤ تو تب بھی وہ نیک اعمال اس تکمیل کے ساتھ نہیں کر سکتے جو میری رضا کا اس حد تک موجب بن جائیں کہ میں تمہیں لا فانی اجر دوں کیونکہ جہاں بھی تمہارا اجر کاٹوں گا وہیں تمہاری کوشش فانی ہو جائے گی اور محدود ہو جائے گی اور اس کے بعد کا زمانہ پھر لا فانی ہے۔اس لئے فانی کو لا فانی سے کوئی نسبت ہو ہی نہیں سکتی۔اگر لافانی اجر کے لئے لافانی محنت درکار ہو تو پھر اجر کا دور آہی نہیں سکتا اور اگر فانی اجر کے ذریعے لافانی خدا نے دینا ہی ہے تو پھر بھی تکلیف کیوں دے پھر وہ تھوڑی سی آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کے بعد لافانی اجر کا سلسلہ شروع فرما دیتا ہے۔یہ مضمون خدا نے میرے دل میں ڈالا کہ میں ان کو تسلی دوں کہ ان معنوں میں ہماری پہنچ آسمان کے ہر کونے تک ہو گی کہ ہم چھوٹی سی بھی چھلانگ لگائیں گے تو خدا اس کی پہنچ کو آسمان کی بلندیوں اور رفعتوں تک ممتد فرما دے گا اور چند کونوں کی بھی تلاش کریں گے تو سب کو نوں تک ہماری کوشش کا اثر پہنچ جائے گا۔پس چونکہ یہ پیغام بہت اہم تھا اور میں سمجھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ جب بھی فضل لے کے آئے گا اسی طرح جماعت پر فضل لے کے آئے گا۔خواب میں یہ سب جو مجھے بتایا گیا ہے یہ دراصل صرف ان کے لئے نہیں ساری جماعت کو بتانے والا تھا اور اس ذکر سے میں امید رکھتا ہوں کہ پاکستان میں تکلیف اٹھانے والوں کو نئے حوصلے ملیں گے ، نیا ان میں تو کل پیدا ہوگا اللہ تعالیٰ پر اور ان کے ایمان میں جو خدا کے فضل سے پہلے ہی مضبوط ہیں ایمان کو نئی مضبوطی عطا کی جائے گی۔بہر حال ان کو دعاؤں میں یاد رکھنا ہمارے فرض ہے۔ان کے ذکر کو زندہ رکھنا ہمارا فرض ہے، اپنی محافل میں بھی اپنے دیگر مشاغل میں بھی۔ذکر کے ذریعے بھی ان کو زندہ رکھیں اور دعاؤں کے ذریعے بھی ان کی مدد کرتے رہیں کیونکہ وہ ہم سب کا فرض کفایہ ادا کر رہے ہیں ہم سب کا بوجھ اٹھانے والے لوگ ہیں اللہ ان کی نصرت فرمائے اور ان کی مشکلات کو جلد تر آسان فرمادے۔آمین خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔ابھی نماز جمعہ کے ساتھ نماز عصر بھی جمع ہوگی کیونکہ موسم کافی خراب ہے اور جو باہر سے