خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 419
خطبات طاہر جلد ۶ 419 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۷ء ان تک بھی پہنچیں گے اور کسی حالت میں بھی اس جہاد کو ہم چھوڑنے والے نہیں ہیں۔یہ کہنے کے بعد مجھے اچانک خیال آتا ہے کہ یہ کہیں گے کہ زمین تک تو تم پہنچ سکتے ہو ہم مان لیتے ہیں ہر کوشش تم نے کی ہوگی لیکن آسمان کی بلندیوں پہ کس طرح جاؤ گے اور کس طرح آسمان کے ہر کونے میں ہمارے لئے منفعتوں کی تلاش کرو گے؟ یہ سوال اٹھتے ہی میرے ذہن میں جواب آتا ہے اور میں ان کو یہ بتاتا ہوں یا بتانے لگتا ہوں کہ اس کے بعد رفتہ رفتہ وہ خواب، ایک دم تو نہیں مگر رفتہ رفتہ جیسے بالکل غائب ہو جاتی ہے اور مکمل ہو جاتی ہے۔وہ دو باتیں جو میرے ذہن میں آتی ہیں جو ان کو میں پوری طرح بتا نہیں سکا کیونکہ اس کے بعد رفتہ رفتہ وہ خواب غائب ہو گئی، وہ یہ تھی کہ اس دنیا میں بھی جو ہم کوشش کرتے ہیں وہ ساری کہاں کر سکتے ہیں اور ان کوششوں کی حیثیت کیا ہے؟ امر واقعہ یہ ہے کہ ان کوششوں کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ صرف ہمارا اخلاص دیکھتا ہے ہماری نیتیں جانچتا ہے۔یہ معلوم کر لیتا ہے کہ ہم کمزورں کی طاقت میں جو کچھ بھی تھا وہ سب کچھ ہم نے صرف کر دیا پھر یہ خدا کی طاقت ہے جود نیا کے سارے ذرائع کو ہمارے حق میں حرکت میں لے آتی ہے اور گویا ہم نے دنیا کی ہر امکان کی چھان بین کر لی اور ہر امکان سے استفادے کی کوشش کر لی۔میں نے کہا جب میں یہ کہنا چاہتا ہوں ان کو تو مراد یہ نہیں تھی کہ ہم نے واقعہ ہر سبب کو اختیار کر دیا ہے ہر ذریعے سے تمہاری مدد کی ہے مراد یہ ہے کہ ہم میں جتنی طاقت تھی وہ ہم نے کر دیا لیکن خدا نے اس کو قبول کیا ہے اور خدا نے اب سارے ذرائع کو متحرک کرنا ہے۔اسی طرح آسمان کا معاملہ ہے ہم تو جتنی ہماری پہنچ ہے اس کے مطابق ہی کریں گے لیکن جب میں وعدہ کرتا ہوں کے سب کو نوں تک پہنچیں گے تو مراد یہ ہے کہ ہمارا خدا اسب کونوں تک ہمیں پہنچائے گا اور ہمارا خدا ہر کونے میں مخفی مصلحتوں کو بروئے کار لائے گا اور متحرک فرما دے گا۔یہ ہے وہ جو میں ان کو مضمون سمجھانا چاہ رہا ہوں خواب میں۔مجھ پہ پوری طرح واضح ہو گیا لیکن اس کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ وہ خواب ختم ہوگئی لیکن دوسرا پہلو بھی مجھ پر واضح ہے وہ بھی میں آپ کے سامنے رکھ دیتا ہوں وہ یہ تھا کہ ایک لمحے کے اندر خدا تعالیٰ یہ دونوں باتیں مجھے سمجھاتا ہے۔دوسرا یہ تھا کہ ہم مرنے کے بعد جو لا فانی اجر پاتے ہیں اس لافانی اجر پانے میں تو کوئی بھی بظاہر انصاف نہیں پایا جاتا۔ہماری عمر چھوٹی سی ، ہماری دنیا کی نیک کوششیں بالکل معمولی اور حقیر اور جب ہم مرجاتے ہیں تو اجر لافانی ہو جاتا ہے۔یہ کیوں؟ اس کو لا فانی نہیں ہونا چاہئے اس اجر کو کچھ عرصے