خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 415
خطبات طاہر جلد ۶ 415 خطبہ جمعہ ۱۹/ جون ۱۹۸۷ء ویسا کوئی دنیا میں نہیں کرتا۔ہم نے خاص فنڈ رکھے ہوئے ہیں ان کی عبادتگاہوں کی مرمتوں وغیرہ کے لئے بھی۔وہ فنڈ جو غالباً بچا رہے ہیں ابھی کیونکہ اتنا مرمتیں ہونے والی ہیں مسجدوں کی مسجدیں مسمار ہو گئیں تو تھوڑے سے فنڈ سے تو نہیں اب وہ بن سکتیں۔تو جو بھی ان فنڈوں کی شکل ہے ہمیں پتا نہیں کہ کہاں پڑے ہوئے ہیں کس غرض کے لئے استعمال ہوتے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں یہ ایک ایسی چیز ہے جس کو ہم بڑی شان کے ساتھ بیان کر سکتے ہیں اور اسلام نے یہ ہمیں قدر عطا فرمائی ہے، اسلامی قدروں کے محافظ تھے نہ وہ مذہبی امور کے وزیر۔کہتے ہیں ہمارے ہاں تو بہت ہی احترام کے ساتھ اقلیتیں اور ان کے معابد خاص طور پر دیکھے جاتے ہیں اور ساتھ ہی یہ خبر آئی ہے کہ اس مسجد کے کیس میں جو منہدم پڑی ہے، جو بیچارے وہ لوگ جو جن پر پہلے بھی ظلم کیا گیا تھا ان پر مزید ظلم کیا جاتا ہے، مزید ان کو زخمی کیا جاتا ہے اور اس کے بعد شدید گرمی میں اندھیری کوٹھریوں میں مقید کیا گیا جہاں کوئی پنکھا نہیں اور کوئی انسان کو گرمی سے بچانے کا سامان نہیں تھا، ہوا تک نہیں چلتی اور ضمانتیں نامنظور کی جارہی ہیں۔یہ ہے موجودہ حکومت کی اسلام دوستی یا انسان دوستی اور اس طرح یہ جن کو وہ اقلیت سمجھتے ہیں ان کے حقوق کی حفاظت کر رہے ہیں یا پھر دوسری شکل یہ ہوگی کہ انہوں نے ہمیں اقلیت قرار دینے سے توبہ کر لی ہو گی مگر ہمیں بتایا نہیں ابھی تک یعنی اقلیتوں سے تو یہی سلوک کرتے ہوں گے سکھوں سے، ہندوؤں سے، عیسائیوں سے لیکن دل میں جانتے ہیں کہ احمدی اقلیت نہیں اور دل میں پوری طرح اچھی طرح مطمئن ہیں کہ احمدی ہیں مسلمان ہی اقلیت نہیں ہیں اس لئے مسلمان مسلمان سے جو چاہے کرے اس سے کیا فرق پڑتا ہے اسلام صرف اقلیتوں پر ظلم کرنے سے باز رکھتا ہے۔شاید یہی دل کی آواز ہو جس کے نتیجے میں ان کے عمل میں یہ دوغلا پن پیدا ہو گیا ہے۔مگر بہر حال یہ بھی شکل ہے اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ جماعت احمد یہ بڑی ہمت اور استقلال کے ساتھ شدید مظالم کے سامنے سینہ سپر ہے اور ہرگز کسی قسم کے ظلم اور استبداد سے ڈرنے والی جماعت نہیں ہے۔ہر پہلو سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترقی کرتی چلی جارہی ہے اور اگر کچھ لوگ کہیں جماعت سے مرتد ہوئے ہیں تو جب بھی ہم نے تحقیق کرائی ان میں وہی لوگ نکلے جو اس سے پہلے جماعت سے بعض جرائم کے نتیجے میں پہلے ہی علیحدہ کر دیئے گئے تھے یا دل میں بددیانتی تھی،