خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 414 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 414

خطبات طاہر جلد ۶ 414 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۷ء پیشی دے کر واپس آرہے تھے تو رستے میں ان کی کا روک کر ان پر حملہ کیا گیا اور شدید زخمی کیا گیا، ان کے بھتیجے کو بھی شدید زخمی کیا گیا اور چونکہ ان پر حملہ ہوا تھا اور یہ امنِ عامہ کے لئے خدشہ تھا اس لئے ساتھ ہی ان کو دوبارہ قید کر دیا گیا اور باوجود کوشش کے ضمانت بھی نہیں دی گئی۔یہ جس ملک میں انصاف کا تصور ہو ، جس ملک میں انسانی عدل اور تقویٰ کا یہ معیار ہو، ساتھ میں یہ دعویٰ کرے کہ ہم ایک عظیم الشان مسلمان اسلام کی خدمت کرنے والی حکومت ہیں اور اس سے پہلے کبھی اسلام کی ایسی خدمت کرنے والے لوگ نہیں آئے تھے۔ایسا دجل ، ایسا جھوٹ ہے کھلا کھلا فساد ہے کہ بہت سے ملک کے اندر رہنے والے لوگ اس کو سمجھ بھی چکے ہیں مگر کچھ کر نہیں سکتے۔جہاں تک بیرونی دنیا کا تعلق ہے چونکہ ان کی زبانیں کھل چکی ہیں کھلم کھلا صاف انکار کر دیتے ہیں کہ ایسی کوئی بات ہوئی نہیں۔ابھی وہاں میں نے وہاں پر یس کا نفرنس میں زیورچ میں جو بیان دیا تو رائٹر وغیرہ نے کافی چھان بین کے بعد مجھ سے کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے تک بحث کی جب وہ پوری طرح مطمئن ہو گئے تو اس کے بعد انہوں نے بہت اچھی خبر یہ تمام دنیا میں مشتہر کی اور وہ سوئٹزر لینڈ کے بڑے اخباروں میں بھی چھپی ، باہر کی دنیا میں بھی کہ ہو کیا رہا ہے اس وقت اس کی تفصیل تھی۔اس پر پاکستان کے Ambassador صاحب کا بیان آیا کہ بالکل جھوٹ ہے ایسی کوئی بات ہی نہیں ہے۔اتنا امن ہے پاکستان میں خصوصاً احمدیت کے معاملے میں، نہ ان کے جلسوں پر پابندی، نہ ان کی مساجد پر کسی قسم کی پابندی، نہ ان پر کوئی اور ظلم اب یہ پتہ نہیں کیا مرزا صاحب بیٹھے بیان دیتے رہتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں تو یہ نہیں ہو رہا۔بالکل صاف انکار کر دیا اور چھپی ہوئی ان کی کتابیں ان کی تحریر میں حکومت کے بیانات سب موجود ہیں اور پر لیس کو ہم نے دکھائے ہیں حالانکہ وہ بھی حیران ہوتے ہوں گے کہ کس قسم کا ملک ہے کوئی شرم نہیں ہے جھوٹ بولنے میں اور ابھی حال ہی میں اتنی مسجدوں کے انہدام کے باوجود ، لوٹنے کے باوجود، ہزاروں احمدیوں کو کلمہ کے جرم میں یا مسجدوں کی حفاظت کے ظلم میں جیلوں میں بھجوانے کے باوجود ابھی چند دن ہوئے مذہبی امور کے وزیر صاحب کا ایک بیان چھپا ہے یہاں جنگ میں بھی چھپا ہے۔وہ کہتے ہیں ہمارے ملک میں تو جو خاص خوبی ہے وہ یہ ہے کہ ہم اقلیت کے حقوق کا بہت خیال رکھتے ہیں۔کہتے ہیں یہ تو ایسی چیز ہے جو ہماری اصولی بات ہے اس سے ہم ہٹ ہی نہیں اور سب سے بڑھ کر ان کے عبادتگاہوں کا جو احترام ہم کرتے ہیں