خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 413 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 413

خطبات طاہر جلد ۶ 413 خطبہ جمعہ ۱۹ / جون ۱۹۸۷ء بڑھو گے اتنا ہی زیادہ جنت میں آنحضرت ﷺ تمہارا انتظار کر رہے ہوں گے اور تمہارے استقبال کے لئے نعوذ باللہ من ذالک تشریف لائیں گے تو کوئی بھی اعلیٰ قدرایسی نہیں جس کے زندہ رہنے کے امکان باقی چھوڑے جارہے ہوں۔ہر تصور مسخ کر دیا گیا ہے، ہر عمل بگاڑ دیا گیا ہے۔اب مردان ہی سے دوبارہ اطلاع ملی وہ مسجد جسے شہید کر دیا گیا تھا لیکن اس کے ساتھ یہ فرق ہے کہ سامان کو آگ نہیں لگائی گئی لوٹ لیا گیا یہ تھوڑا سا زیادہ عقل کا نمونہ دکھایا ہے مردان والوں نے کہ مال پلید ہوگا تو نیک لوگوں کے استعمال میں آکر صاف ہو جائے گا جلانے کی کیا ضرورت ہے۔چنانچہ انہوں نے صرف قرآن کریم پھینکے ہیں اور جو پنکھے یا قالین وغیرہ اس قسم کی چیزیں جو انسانی استعمال کی ہو سکتی تھیں وہ اُٹھا کر لے گئے۔اسی دن اس واقعہ سے پہلے تمام احمدیوں کو بلا استثناء اس میں فوج کے بڑے بڑے افسران بھی شامل تھے قید کر کے تھانے پہنچا دیا گیا تا کہ یہ دفاع کر کے کوئی امنِ عامہ کے لئے خدشہ کا موجب نہ بن جائے اور ان لوگوں پر مقدمے کئے گئے خصوصاً ان میں سے جو کوئی بھی کسی رنگ میں صاحب اثر تھے۔ابھی چند دن پہلے ان میں سے ایک وہاں کے معزز دوست قاضی محمد اکبر صاحب جو پہلے میجر ہوا کرتے تھے ان کے بھائی کرنل اکبر مرحوم بھی بڑے مخلص اور فدائی احمدی اور فوج میں ایک اچھا مقام حاصل کرنے والے انسان تھے۔بنگال میں جب جنرل اعظم خان کی حکومت تھی تو ان کے وه Second in Command تھے وہاں عملاً اور جنرل اعظم ان کی بہت عزت کرتے تھے بہت اعتماد کیا کرتے تھے ، بڑے بہادر ، دلیر مخلص احمدی۔اس خاندان کا وہاں بڑا اثر ہے مردان میں اور بہت مدتوں سے سالہا سال سے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ بیسیوں سال سے وہاں کے معزز ترین خاندانوں میں شمار ہوتا ہے اور اہل مردان پہلے عام حالات میں تو سوچ بھی نہیں سکتے کے ان کے خلاف کسی قسم کی نامناسب کاروائی کریں یا میلی آنکھ سے دیکھیں۔تو ایسے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کے لئے اب طریق یہ بن گیا ہے کہ ملاں لوگ باہر سے آدمی لاتے ہیں کیونکہ اہل مردان اپنی پرانی روایات کے تابع اور اس خیال سے کہ ہمارے گھر کے معزز لوگ ہیں ہم کیوں ان کے خلاف کوئی بُری بات کریں، وہ ملا کے اشتعال دلانے کے باوجود بھی ایسی بیہودہ حرکتوں سے باز رہتے ہیں۔چنانچہ ابھی بھی ایسا ہوا کہ جب اس مقدمے میں جو جھوٹا مقدمہ ان پر اس مسجد کے انہدام کے بعد بنایا گیا۔