خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 410

خطبات طاہر جلد ۶ 410 خطبہ جمعہ ۱۹/ جون ۱۹۸۷ء ویسے حال ہو چکا ہے مذہبی معیار کا گرنے کا جہاں تک تعلق ہے۔کہتے ہیں کہ ایک شخص پیر صاحب کے پاس گیا تو وہ چارپائی پر بیٹھے ہوئے تھے اور سامنے والی چار پائی پر غریب بیٹھ گیا۔پیر صاحب نے بھی بڑی ناراضگی کا اظہار کیا اور ساتھیوں نے تو اس کو مارنا بھی شروع کر دیا کہ بڑے ذلیل آدمی ہو تم ہوتے کون ہو پیر صاحب کے مقابل پر اونچا بیٹھنے والے؟ اس نے کہا جی ! میں غریب آدمی ایک طرف دوسری چار پائی پر بیٹھا ہوں سرہانے نہیں میں پائنتی کی طرف ہو جاتا ہوں مگر اس میں حرج کیا ہے؟ انہوں نے خوب اچھی طرح مارا کہ تمہیں ادب ہی کوئی نہیں ہے تمہیں پتا ہی نہیں ہے کہ پیر کے مقابل پر برابر نہیں بیٹھا کرتے۔وہ بیچارہ ایک دن آیا تو پیر صاحب زمین پر فرش بنا کے بیٹھے ہوئے تھے۔اس نے کہا کدال چاہئے ، کدال مانگا اور سامنے جگہ کھودنی شروع کر دی۔انہوں نے کہا پاگل ہو گئے ہو کیا کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا میں گڑھا کھود کے نیچے بیٹھنا چاہتا ہوں کیونکہ پچھلی دفعہ جو میری بے عزتی ہوئی تھی اور مار پڑی تھی اب میں دوبارہ تمہیں اس کا موقع نہیں دینا چاہتا پیر کے مقابل پر میں نہیں بیٹھ سکتا اس سطح پر اس لئے اگر وہ زمین پر بیٹھا ہے تو مجھے گڑھا کھود کر نیچے اترنا پڑے گا۔جہاں تک مذہبی تصورات کا معیار ہے، جہاں تک اسلام کا تصور پایا جاتا ہے آج پاکستان میں اس کا اب یہ حال ہو چکا ہے۔جہاں بلند تر تصور رکھنے والا ز مین کی سطح پر اترا ہوا ہو وہاں عوام الناس بیچارے گڑھے کھود کر نیچے اتریں گے۔اس لئے ان کی یہ رائے بعض لوگوں کے حق میں درست ہے کہ جتنی بے ہودہ حرکتیں اسلام کے نام پر کی جائیں گی اتنا ہی زیادہ بے ہودہ حرکتیں کرنے والا اسلام کا ہیرو سمجھا جائے گا لیکن جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے اب یہ سلسلہ اور رنگ سے چل چکا ہے۔جماعت کے خلاف بھی جاری ہے اور آپس میں بھی ایک دوسرے کے خلاف جو ہاتھ کھل چکے، ہیں جو زبانیں بے ادب ہوگئی ہیں، جن لوگوں کو عادت پڑ چکی ہے جھوٹ بولنے کی اور جانتے ہیں کہ الزام لگانے کے نتیجے میں کوئی سرزنش نہیں کی جاتی۔ان کو اب روکا تو نہیں جاسکتا۔اب تو جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ اب یہ حکایت عام ہوئی ہے سنتا جا شرماتا جا وہی کیفیت ہے۔صرف شرماتا جا کا لفظ زیادہ ہے کیونکہ یہاں شرماتے جا کا کوئی تعلق نہیں رہا باقی۔ادنی شرم اور حیا بھی ہو تو کوئی اپنے ملک اور اپنے وطن پر یہ ظلم نہیں کر سکتا کہ اس قسم کی بے حیائیوں کو ترویج دے اور ان کو شہ دے اور سارے ملک کا