خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 409 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 409

خطبات طاہر جلد ۶ 409 خطبہ جمعہ ۱۹/ جون ۱۹۸۷ء روک دیں یا افسران بالا کو سمجھائیں یا ماتحت لوگوں کو کہیں کہ ہاں ہم مجبور جاری کر رہے ہیں لیکن تم سنجیدگی سے اس بات کو نہ لو۔اس لئے یہ سارے حالات ہیں جو ان مظالم کو جاری رکھنے میں ایک طرح سے محمد ہیں اور ان کے بہت لمبا عرصہ تک جاری رہنے کے ذمہ دار ہیں۔جہاں تک مولویوں کی سطح کا تعلق ہے اس کے متعلق میں اس وقت تفصیلی بحث میں نہیں جانا چاہتا بہت سے اس کے محرکات ہیں، بہت سے ایسے اسباب ہیں بیرونی اور اندرونی یعنی بیرونی ممالک سے تعلق رکھنے والے بھی اور اندرونِ پاکستان سے بھی جن کے نتیجے میں علماء کے بعض طبقے ہیں جو مسلسل اس کام پر مامور ہو چکے ہیں اور ان میں بھی پھر بددیانتی والے ایسے لوگ ہیں جن سے پیسہ کھاتے ہیں ان کے خلاف بھی ہو جاتے ہیں، جن کی رسی پہ ناچتے ہیں خود ان کو بھی کاٹتے ہیں۔چنانچہ اب علماء کا ایک ایسا طبقہ انہیں لوگوں میں سے ہے جن کو صدر مملکت نے بہت شہ دے کر اور بہت سینے سے لگا کر احمدیت کی مخالفت پر مامور کئے رکھا، اب وہ اسی صدر مملکت کو اتنی غلیظ گالیاں دے رہے ہیں کہ ناقابلِ برداشت ہیں اور ایسے ایسے بے ہودہ ذلیل الزام لگارہے ہیں کہ ہماری تو دوستی نہیں ہے لیکن ہم شریف النفس لوگ ہیں، ہمیں سچائی کی تربیت ہے، ہم جانتے ہیں کہ بالکل جھوٹ ہے مثلاً کھلے بندوں بڑے پبلک جلسوں میں یہ اعلان کیا جا رہا ہے بعض جگہ کہ گوجرانوالہ میں جس شخص نے ایک مردہ لڑکی کو نکال کر اس کے ساتھ اپنی شہوت کو بجھانے کی کوشش کی اور انتہائی خبیث قسم کا ظلم کیا وہ صدر ضیاء الحق صاحب کا رشتہ دار ہے۔جھوٹے اور ظالم لوگ ہیں ، ہم جانتے ہیں کہ احمدیت کے اوپر بھی اسی قسم کے الزام لگایا کرتے تھے بے وجہ، بالکل بے تعلق نہ کسی کا کوئی حق ہے ایسی بکواس کرے یہ تو حکومت کا کام ہے تحقیق کرے اور اگر حکومت کے افسران ملوث ہوں تو دوسرے آدمیوں کو بھی بغیر تحقیق کے اس قسم کی بات کا حق ہی کوئی نہیں لیکن وہی جھوٹے جو ہم پر مامور کئے گئے تھے اب ان کے اوپر مامور ہو چکے ہیں اور یہ تو میں نے ایک مثال دی ہے ایسی ایسی مغلظات بولی جا رہی ہیں دین کے نام پر مسجدوں کے منبروں پر کھڑے ہو ہو کے کہ آدمی حیران ہوتا ہے کہ لوگوں کو کچھ اندازہ ہی نہیں رہا کہ آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہونے والوں سے کچھ اور توقعات کی جاتی ہیں۔مساجد اس کام کے لئے نہیں بنائی گئی تھیں لیکن سارا معیار گر چکا ہے جب اوپر سے معیار گرا ہوا ہو تو نچلی سطح کا معیار تولا زما اور بھی نیچے گرنے والی بات ہے۔