خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 408 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 408

خطبات طاہر جلد ۶ 408 خطبہ جمعہ ۱۹/ جون ۱۹۸۷ء کئے جائیں تو عوام الناس کی توجہ ان مظالم کی طرف ہوگی اور بہت سا ایسا طبقہ جو اسلام سے کچھ محبت رکھتا ہے یہ سمجھے گا کہ اور کچھ نہیں تو کم سے کم اسلام کے ہیرو تو ضرور ہیں یہ، اسلام سے محبت تو ضرور ہے اور اس محبت کا صرف ایک ہی ثبوت ہے کہ احمدیت کی دشمنی کی جارہی ہے۔اس کا اظہار یہ ہے کہ کلمے مٹائے جا رہے ہیں، اس کا اظہار یہ ہے کہ انتہائی غلیظ گالیاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سلسلے کے دیگر بزرگوں کو دی جاتی ہیں، اس کا اظہار یہ ہے کہ ہر جائز بات پر احمدیوں پر پابندی اور ہر ناجائز بات پر احمدیت کے دشمنوں کو آزادی اور انگیخت اور گالیاں دینے کے لئے زکوۃ کے پیسے ادا کئے جاتے ہیں۔یہ اسلام کی محبت کا اظہار اور اسلام کی خدمت کا تصور ہے جو حکومت کے بعض بدنصیب چوٹی کے سر براہوں کا ذہنی تصور ہے، یہ ان کی ذہنی ایچ ہے اور اس کے مطابق وہ سمجھتے ہیں اور شاید ایک حد تک درست بھی سمجھتے ہیں کہ نچلی سطح پر ملک کا ایک طبقہ ضرور ہے جو ان چیزوں کو انسانی خدمت سمجھتا ہے اس لئے ان کے ہم دل جیت سکتے ہیں۔ان میں سے چند ایسے بھی ہیں جو از لی بدنصیب ہیں۔جو ہمیشہ سے جب سے دنیا قائم ہوئی ہے یہی اسی کام پر معمور ہیں کہ روشنی کے نام پر نور کے مخالفت کی جائے ، حق کے نام پر سچائی کی دشمنی کی جائے۔وہ بدنصیب ہیں از لی ان کو تو تبدیل کیا ہی نہیں جاسکتا لیکن میں ان کو چھوڑ کر دوسرے طبقے کی بات کر رہا ہوں جن کے پیش نظر مصلحتیں ہیں۔ایک بڑا طبقہ اوپر کے افسران کا خواہ سیاسی ہو یا دوسرے وہ ایسا ہے جو مذہبی ہیرو نہیں بننا چاہتا ان کو کوئی دلچسپی نہیں۔ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جن کو مذہب میں ہی کوئی دلچسپی نہیں لیکن سیاسی سوجھ بوجھ رکھتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ اگر موجودہ حالات میں جبکہ مولویوں کو ایک طرف سے کھلی چھٹی دی جاچکی ہے اور علماء جانتے ہیں کہ انتہائی اوپر کی سطح پر ان کے براہ راست رابطے ہیں اگر ہم نے ان کو اس وقت دبانے کی کوشش کی تو اوپر سے بھی مار پڑے گی اور نیچے سے بھی مار پڑے گی۔اس لئے وہ مصلحت کا تقاضا یہی سمجھتے ہیں کہ اس معاملے میں بالکل خاموش رہیں۔ان میں بعض بڑے شریف لوگ بھی ہیں جن کا جماعت سے پرانا دیرینہ تعلق چلا آرہا ہے، کچھ بالکل لا مذہب ہیں ان کو پرواہ ہی کوئی نہیں کہ مذہب ہوتا کیا ہے لیکن اس موقع پر مصلحتا وہ خاموشی بہتر سمجھتے ہیں اور جب ان کی وساطت سے بعض احکام جاری ہوتے ہیں تو ان میں اتنی جرات نہیں ہے کہ ان احکامات کو