خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 406 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 406

خطبات طاہر جلد ۶ 406 خطبه جمعه ۱۹ جون ۱۹۸۷ء سے بعض علاقوں میں شدت میں کچھ کمی لیکن بعض دوسرے علاقوں میں شدت میں اس سے بہت زیادہ زیادتی ہے اور مسلسل ایک منصوبے کے ساتھ مرکزی حکومت اس ظلم کو جاری رکھنے کی با قاعدہ اس با ہدایات دیتی چلی جا رہی ہے۔ ہر صوبے میں مرکزی حکومت سے جو چٹھیاں پہنچتی ہیں ان کی نقول جماعت تک بھی پہنچتی ہیں اور میرے پاس موجود ہیں۔ کوئی بھی ایسا مہینہ نہیں گزرتا جس میں با قاعدہ مہر لگی ہوئی دستخطوں کے ساتھ ہدایت جاری نہ ہوئی ہو کہ تم جماعت احمد یہ پر مظالم میں سست پڑ گئے ہو، مظالم کا لفظ تو استعمال نہیں کیا جاتا لیکن جماعت کے خلاف کاروائیاں کرنے میں تم ڈھیلے پڑ گئے ہو اور فلاں فلاں معاملات میں نہایت سختی کے ساتھ کاروائیاں کی جائیں۔ یہ تحریریں تو ایک لکھا ہوا ثبوت ہیں لیکن اکثر باتیں تحریر میں نہیں لائی جاتیں۔ آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ وہ جو زبانی ہدایات ہوتی ہوں گی یا ٹیلی فون کے اوپر جو جماعت احمد یہ کے اوپر مظالم کے بارے میں تلقین کی جاتی ہو گی وہ کس نوعیت کی اور کس شدت کی ہوگی۔ جوز ہر تحریر میں گھل جاتا ہے اس سے بہت زیادہ شدت کا زہر الفاظ میں گھولا جاتا ہے یہ ایک طبعی امر ہے اس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کیونکہ تحریر کے وقت انسان کچھ محتاط ہو جاتا ہے اس لئے آپ اس سے اندازہ کر سکتے ہیں کہ ان زبانی ہدایات میں کیا کچھ نہ ہوتا ہوگا۔ چنانچہ ابھی حال ہی میں جو واقعات ہوئے ان کے متعلق جب جماعت نے بعض افسران سے رابطہ کیا تو ان افسران نے بھی اگر چہ وہ تحریر نہیں دے سکتے اس بات کی لیکن زبانی کھل کے بتایا کہ بالکل بے اختیار ہیں ہمیں با قاعدہ مرکز سے براہ راست ہدائتیں ملتی ہیں اور صوبے سے اس کا تعلق نہیں ہے اور ہم جانتے ہیں ظلم ہے، ہم جانتے ہیں کہ بے حیائی ہے، ہم جانتے ہیں اس میں انسانی شرافت کا کوئی بھی پاس نہیں رکھا جاتا لیکن ہمیں آپ کمزور کہہ لیں، ہمیں بز دل کہہ لیں لیکن ہم مجبور ہیں ہم نے نوکریاں کرنی ہیں، ہماری ترقی کے رستے ہیں وہ بند کر دیئے جائیں گے اگر ہم تعاون نہیں کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ ابھی ہمارے بعض انگلستان کے دوستوں نے پاکستان کا دورہ کیا کچھ عرصہ پہلے اور ان کے تعلقات کا دائرہ بڑا وسیع ہے وہ جب مل کے آئے چوٹی کے افسروں سے تو انہوں نے یہی ذکر کیا خود۔ چنانچہ جو اطلاعیں نچلی سطح پر ہمیں ملتی ہیں ان کی تصدیق بہت بلند سطح کے افسروں سے بھی ہوئی انہوں نے کہا ہم بالکل بے اختیار ہیں، ہمیں تو باقاعدہ مسلسل یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور بعض دفعہ