خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 395 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 395

خطبات طاہر جلد ۶ 395 خطبه جمعه ۱۲ جون ۱۹۸۷ء عادات سیکھیں ہیں۔ آپ یہ عادات ؟ پ یہ عادات بھلا کے یہاں آئیں ہیں ۔ آپ کسی گھر جاتے ہیں تو دروازہ کھول کے کسی کمرے میں جانا چاہتے ہیں تو بغیر آواز کے دروازہ دھڑام سے کھولا اور اندر داخل ہو جاتے ہیں ۔ ان کو کیا پتہ کہ آپ کا ماضی کیسا شاندار تھا۔ انہوں نے آج کا چہرہ دیکھنا ہے اور پھر آج کے چہرے کو آج کے جسم کی طرف منسوب نہیں کرنا بلکہ چودہ سو سال پہلے کے چہروں کی طرف منسوب کرنا ہے۔ یہ ظلم ہے جو اسلام کے ساتھ کیا جا رہا ہے اور اس ظلم میں آپ ان کے محمد ہو جائیں گے اگر آپ نے اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا نہ کی ۔ پس اپنی خوبیوں کو دوبارہ حاصل کریں ان کی خوبیوں کو دیکھ کر شرم محسوس کریں کہ یہ تو ہماری صلى الله علي تھیں ۔ اسی واسطے حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے اس صورتحال پر نظر ڈالی اور یہ فرمایا کہ: الحكمة ضالة المومن (ترندی کتاب العلم حدیث نمبر: ۲۶۱۱) کہ حکمت کی بات، اچھی بات تو مومن کی گمشدہ اونٹنی کی طرح کی ہے۔ اگر کسی انسان کی اونٹنی گم جائے تو اسے دوبارہ حاصل کرنے میں شرم محسوس نہیں کرتا، وہ جانتا ہے کہ میری تھی مجھ سے الگ ہوئی ہے۔ پس جب آپ ان کی خوبیاں حاصل کریں گے تو آپ کی یہی کیفیت ہوگی کسی شرم کی ضرورت نہیں ہے ،کسی احساسِ کمتری کا شکار ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر آپ کی خوبیاں نہ بھی ہوتیں تب بھی خوبیوں کو اختیار کرنے میں تو کوئی احساسِ کمتری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا لیکن بفرض محال بعض حساس لوگ کہتے ہیں ہم کیوں نقلیں ماریں ان کے لئے آنحضرت ﷺ نے یہ رستے کتنے آسان فرما دیئے۔ فرمایا الحكمة ضالة المومن یہ تو تمہاری خوبیاں تھیں تم حاصل کرو جس طرح مالک ہوتے ہو تم سے ان لوگوں نے حاصل کر لی ہیں ۔ پس خوبیوں میں تو یہ طریق اختیار کریں اور برائیوں میں وہ دوسرا طریق کہ برائیاں آپ کی نہیں ہیں اگر آپ میں ہیں تو کہیں غیر سے آگئیں ، اگر آپ برائیوں کا شکار ہیں تو یہ پر دیسی چیزیں ہیں جن کا آپ کی ذات سے کوئی تعلق نہیں لیکن اپنے دلوں کو ، اپنی عادات کو آپ نے ان کا وطن بنالیا لیکن اس کے برعکس اگر آپ ان کی برائیاں حاصل کرنے لگ جائیں اور خوبیوں سے غافل ہو جائیں خوبیوں سے آنکھیں بند کر لیں تو کتنا بڑا ظلم ہوگا؟ پہلے ہی بہت ہی گندی عادات کے بوجھ تلے دبے پڑے ہیں ہم لوگ ، معاشرتی لحاظ سے ، تمدنی لحاظ سے، روزمرہ کی عادات رہن سہن کے لحاظ سے اور میل جول کے لحاظ سے۔ کئی پہلو ہیں جن میں ہم بدقسمتی سے ایک لمبے پسماندہ دور میں سے گزرتے