خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 388
خطبات طاہر جلد ۶ 388 خطبه جمعه ۱۲ جون ۱۹۸۷ء بن جایا کرتا ہے۔ خصوصًا الہی جماعتوں کی تاریخ میں یہی ہوتا ہے اور ہمیشہ سے یہی ہوتا چلا آیا ہے۔ صلى الله حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ نے جس دن ہجرت کی ہے کتنے انسان تھے ؟ علی تھے جو اس ہجرت کے دن کی اہمیت کو سمجھ رہے تھے یا اس ہجرت کے واقعہ سے آشنا ہی تھے؟ ایک حضرت علی رضی اللہ صلى الله ایسا تعالیٰ تھے جنہیں پیچھے بستر میں لٹایا گیا تھا تا کہ دیکھنے والا دشمن یہ سمجھتا ہے کہ آنحضرت کی ابھی اپنے بستر ہی میں تشریف فرما ہیں۔ ایک حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھے جو آپ کے ساتھی تھے اور ایک حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی صاحبزادی اور ایک غلام یہ چند گنتی کے انسان تھے جو اس واقعہ سے باخبر تھے اور اہل مکہ کو جب اس کا علم ہوا تو انہوں نے اس واقعہ پر تحقیر کی نظر ڈالی ، وقعت کی نظر نہیں ڈالی لیکن آج کل عالم میں اسلامی تاریخ کا آغاز اس دن سے ہوتا ہے اور یہ اسلامی کیلنڈر دن بدن زیادہ سے زیادہ وقعت اختیار کرتا چلا جا رہا ہے۔ اسلام کے پھیلنے کے ساتھ یہ کیلنڈر جو اس سے پہلے عرب بھی نا آشنا تھے ایک عالمی حیثیت اختیار کر چکا ہے اور دن بدن بڑھتا چلا جائے گا ، دن بدن پھیلتا چلا جائے گا اور دنیا کی تاریخ جس دن سے شروع ہوگی وہ وہی دن ہو گا یعنی حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی ہجرت کا دن اور باقی تاریخ ما قبل ہجرت کی تاریخ سمجھی جائے گی۔ صلى الله یہی وجہ ہے کہ حضرت مصلح موعودؓ نے عیسوی کیلنڈر کو ہجری کیلنڈر میں سورج کے لحاظ سے تبدیل کرنے کے لئے ایک علماء کی کمیٹی بٹھائی اور بڑی کوشش اور بڑی محنت اور جد و جہد اور علمی تحقیق کے بعد انہوں نے ایک ایسا اسلامی کیلنڈر بنایا جو شروع تو ہجرت سے ہوتا ہے لیکن چاند کی بجائے سورج کے حساب سے مقرر کیا گیا تھا تا کہ نئے دور میں چونکہ دنیا سورج کے لحاظ سے کیلنڈرکو سمجھنے اور اس کے مطابق اپنے اوقات کو مقرر کرنے اور مرتب کرنے کی عادی ہو چکی ہے اس لئے ان کے لئے کچھ مشکل نہ ہو۔ تو دیکھئے ! ایک چھوٹا سا بظاہر واقعہ تھا جس نے کوئی سنسنی پیدا نہیں کی اس وقت لیکن حیرت انگیز طور پر وہ واقعہ عظمت اختیار کر گیا ۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات سے جو کیلنڈر منسوب اگر چہ اس کے متعلق ہم نہیں کہہ سکتے کہ وہ کب شروع ہوا ہے، نہ تو اس کا صلیب کے وقت سے تعلق ہے نہ حقیقت پیدائش کے دن سے کوئی تعلق ہے لیکن مسیح علیہ السلام کی ذات سے وہ کیلنڈر بہر حال وابستہ ہے اور دیکھئے دنیا میں کتنی بڑی عظمت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت جب مسیح کا دور تھا اس زمانے کا تاریخ دان تو مسیحیت کے پیدا ہونے کا ذکر بھی نہیں کرتا ۔ صلیب کا واقعہ ان کی نظر میں کوئی