خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 373
خطبات طاہر جلد ۶ 373 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۸۷ء عید کے دن جمعہ کا مسئلہ نیز رمضان کے بعد تعلق باللہ میں اضافہ کی تلقین ( خطبه جمعه فرموده ۲۹ مئی ۱۹۸۷ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: جیسا کی پچھلے جمعہ میں میں نے بتایا تھا آج کا جمعہ بعض روایتوں کے مطابق تو طوعی ہے یعنی اجازت ہے کہ جمعہ ہو یا نہ ہو اور بعض روایتوں کے مطابق طوقی نہیں بلکہ جمعہ بہر حال ہونا چاہئے شامل ہونے والوں کو اجازت ہے کہ وہ چاہیں تو شامل ہوں چاہیں تو نہ ہوں یعنی چند ہی اگر ہو جائیں تو کافی ہے اور یہ جو روایت ہے اس کا زیادہ وزن معلوم ہوتا ہے کیونکہ امام مالک نے موطا میں یہ روایت درج کی ہے اور جو رخصت والی ہیں کہ جمعہ بے شک ہو ہی نہ (موطا امام مالک کتاب نداء الصلوۃ حدیث نمبر : ۳۸۵) بالکل وہ روایتیں بعد کی ہیں اور بعض تو ان میں سے آثار ہیں صرف یعنی حدیث کی بجائے وہ صرف صحابہ تک بات پہنچتی ہے۔حدیث اور اثر میں فرق یہ ہے کہ حدیث وہ کلام ہے جو آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہو خواہ بیچ کی ساری کڑیاں محفوظ ہوں یا نہ ہوں اور اثر کہتے ہیں ایسی بات کو جو صحابہ تک بات پہنچا کے چھوڑ دے اور آگے صحابہ سے رسول اکرم ﷺ کے درمیان کڑی نہ ملائے۔اس پہلو سے جب میں نے جائزہ لیا تو وہ حدیثیں جن کا رخصت کی طرف کلی رخصت کی طرف رجحان ہے وہ یہ بیان یا تو بہت بعد کے زمانے کی ہیں یا پھر صرف آثار ہیں یعنی یہ بیان کیا گیا کہ حضرت علی یوں کیا کرتے تھے یا ان کا یہ خیال تھا ، ابن عباس کا یہ خیال تھا یا ان کا یہ عمل تھا، ان کا یہ