خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 374 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 374

خطبات طاہر جلد ۶ 374 خطبه جمعه ۲۹ رمئی ۱۹۸۷ء فتویٰ تھا۔تو اس پہلو سے میں نے پھر یہی مناسب سمجھا کہ جو زیادہ وزنی چیز ہے اسی کو اختیار کیا جائے اور مزید تحقیق ہوگی آئندہ جب بھی تو یہ معلوم کیا جائے گا کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں ایک سے زیادہ تو نہیں ہوئے ایسے موقعے۔بعض موقعوں پر آپ نے شروع میں ہوسکتا ہے یہ موقف اختیار کیا ہو کہ مرکزی جمعہ بہر حال ہو اور باقیوں کو رخصت ہے۔ہوسکتا ہے کسی اور موقع پر آپ نے فرما دیا ہو کہ ٹھیک ہے آج ہم سب رخصت سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔تو جب وہ تحقیق ہوگی تو پھر انشاء اللہ جماعت کے سامنے پھر پیش کر دی جائے گی۔آج تو صرف سنت پوری کرنی تھی اور یہ کہہ کر میں اس خطبے کو ختم کرتا ہوں کہ دعاؤں کا خاص دور تو گزر گیا ہے مگر دعاؤں کا وقت بہر حال نہیں گزرا۔یہ خیال کہ عبادتوں کا وقت بھی رمضان کے ساتھ محدود دعاؤں کا وقت بھی یہ بالکل غلط تصور ہے۔زندہ خدا کے ساتھ جو مذہب منسوب ہوتے ہیں ان کا ایمان بھی زندہ، ان کی دعائیں بھی ہمیشہ زندہ ، ان کا تعلق باللہ زندہ۔رمضان نے اس زندگی میں اضافہ کیا ہے یعنی رمضان کے بعد پہلے سے زیادہ تعلق قائم پیدا ہو جانا چاہئے۔رمضان کے بعد پہلے سے زیادہ عبادتیں ہو جانی چاہئے۔یہ ہے اصل صحیح تصور، یہ نہ ہو کہ چونکہ رمضان میں ہو گیا تعلق اس لئے السلام علیکم۔اب ہم اس تعلق کو تو ڑ لیتے ہیں اور آئندہ سال پھر رمضان کو سلام کریں گے۔یہ بالکل جاہلانہ خیال ہے لیکن افسوس کہ عموماً مسلمانوں میں یہی رجحان پایا جاتا ہے۔جماعت احمدیہ کو اس غلط رجحان سے اگر ان میں ہے تو استغفار کرنا چاہئے اور اس رنگ میں رمضان کو دیکھنا چاہئے کہ گویا سیڑھیاں ہیں۔جب اگلا رمضان آئے تو ایک سیڑھی پر اور اوپر قدم چلا جاتا ہے اس کے بعد نہ نیچے اترتے ہیں نہ فلیٹ دور ہے کوئی پھر اگلے رمضان کی سیڑھی آپ کو اور اونچا پہنچا دیتی ہے۔یہ ہے صحیح اسلامی زندگی اور اسلامی سفر کا تصور۔اللہ ہمیں اس پر قائم فرمائے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: ابھی شیخو پورہ سے کچھ عرصہ پہلے یہ خبر ملی ہے کہ حضرت چوہدری انور حسین صاحب امیر جماعت شیخو پورہ جو سلسلے کے پرانے مخلص خادم ہیں ان کی اہلیہ وفات پاگئی ہیں۔انا للہ وانا اليه راجعون۔تو نماز جمعہ کے معا بعد انشاء اللہ ان کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔