خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 368 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 368

خطبات طاہر جلد ۶ 368 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء آخر پر دعا کے متعلق میں یہ صرف اتنا عرض کروں گا کہ جو احمدی بیچارے مسجدوں سے محروم کر دیئے گئے ہیں بڑے ہی مظلوم ہیں ان کا بھی دل چاہتا ہے کہ وہ عبادتوں کے لئے اکٹھے ہوں ، سب سے زیادہ وہ ہی اکٹھے ہونے والے تھے ان کے لئے جگہ نہیں چھوڑی گئی۔جہاں تک ان کا تعلق ہے ان کی عبادتوں کا تعلق ہے ان کو تو میں یہ پیغام دیتا ہوں حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی طرف سے پیغام دیتا ہوں کہ خدا نے تمہارے لئے زمین کا چپہ چپہ مسجد بنا دیا ہے۔بالکل غم اور فکر نہ کر وہ تمہاری عبادتیں پہلے سے زیادہ مقبول ہو رہی ہیں جہاں بھی تم عبادتیں کر رہے ہو لیکن جنہوں نے ان کو محروم کیا ہے ان کی بد بختی کا تصور کریں۔ان کی عبادتیں کہیں بھی مقبول نہیں ہور ہیں لازماً مردود ہو چکی ہیں۔اس لئے اپنی دعاؤں میں ان مظلوموں کو بھی یاد رکھیں کہ ان کے دل کا درد دور کرنے کا خدا انتظام فرمائے ، دوبارہ ان کے اکٹھا ہونے کا انتظام فرمائے اور ان کو دشمن کے شر سے محفوظ رکھے اور ان کے دلوں کو حوصلہ دے، ڈھارس دے، ان کے صبر کا مرتبہ بلند فرمائے اور ان کے اندر راضی برضا ہونے کا حوصلہ پید فرمائے۔راضی برضا ہونے کا بھی حوصلہ چاہئے بڑی مزیدار بات ہے راضی برضا ہونا لیکن بے حوصلے کے نصیب نہیں ہوا کرتی۔تو ان کے لئے خصوصیت سے یہ دعا کریں اور انہوں نے جنہوں نے اپنا مقدر تباہ کر لیا ہے مسجدوں پر حملے کر کے ان کے لئے دعا کریں اللہ ان کو عقل دے پیشتر اس کے کہ وہ مریں خدا ان کو ہدایت عطا فرمائے اور بدنصیبی کی حالت میں ان کو موت نہ دے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: آج بھی نماز جنازہ غائب ہو گی جمعہ کے بعد اور دس مرحومین ہیں جن کی نماز جنازہ غائب پڑھی جائے گی۔ایک عبدالستارخان صاحب ایڈووکیٹ سرگودھا، ہمارے چوہدری حمید اللہ صاحب وکیل اعلیٰ کی بیگم کے بھائی تھے یہ خاموش طبیعت تھے مگر بہت دل میں نیکی اور اخلاص تھا۔پچھلے کچھ عرصہ سے کافی بیمار چلے آرہے ہیں۔ان کا مجھے خط بھی ملا تھا خاص طور پر اس میں یہ تاکید تھی کہ جنازہ ان کا میں پڑھوں۔مجھے تو آج ہی ابھی پتا لگا ہے کہ یہ فوت ہو گئے ہیں معلوم ہوتا ہے پہلے خط آیا ہوگا میرے ذہن میں نہیں رہا۔