خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 33
33 33 خطبہ جمعہ ۹/ جنوری ۱۹۸۷ء خطبات طاہر جلد ۶ ہیں، آخر ہم نے دنیا کمانی ہے، ہم نے کھانا ہے، ہم نے آرام کرنا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے تمہیں عملاً یہ کر کے دکھا دیا ہے۔وہ بھی آرام کرتے ہیں لیکن ان کے آرام پر بھی خدا اس طرح چھا گیا کہ اِلى رَبِّكَ فَارْغَبُ کا مضمون تمہیں ہر جگہ نظر آئے گا۔سیر میں بھی ، اٹھنے بیٹھنے میں بھی ، دنیا کی تحقیق میں بھی ، گفتگو میں بھی۔اس پہلو سے جب ہم اپنا جائزہ لیتے ہیں تو جہاں وقت ضائع کرنے والوں کا میں نے ذکر کیا تھا، جو لوگ وقت ضائع نہیں کر رہے، ان کے وقت کا بھی ایک بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے اور تب انسان کو محسوس ہوتا ہے کہ حضرت اقدس محمد مصطفی ﷺ کی حقیقی شان اور حقیقی مقام کتنا ہے اور ان تک پہنچنے کے لئے کتنی عمریں درکار ہیں۔ایک پہلو سے ایک سال اور تمیں ہزار سال کی نسبت بھی قرار دی جاسکتی ہے اگر اس کو قدر کی رات کے پیمانے سے جانچا جائے۔مگر ہم اس بات کے تو بہر حال جوابدہ ہیں کہ ہماری حرکت اس طرف تھی یا اس سے برعکس طرف تھی؟ کیا ہم کوشش یہ کر رہے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی سیرت کے مطابق ، آپ کے نمونے کے مطابق اپنے وقت کو وقت بنائیں یا اس کے برعکس سمت میں ہم رواں تھے۔اس پہلو سے بھی آپ غور کر کے دیکھیں تو ہمارا بہت سا وقت ضائع ہوتا نظر آرہا ہے بلکہ ہماری اولا د کا وقت ہم سے بھی زیادہ ضائع ہوتا نظر آ رہا ہے اور یہ خطرہ سامنے آجاتا ہے کہ ہم نے اگر اپنے وقت کی کوئی قیمت حاصل بھی کر لی تو ہم ایسی اولاد پیچھے چھوڑ کر جارہے ہیں جن کا وقت باطل کی طرف متحرک ہے۔وہ جو سائنس پڑھیں گے تو دنیا دار کی طرح سائنس پڑھیں گے۔ان کو سائنس میں خدا نظر نہیں آرہا ہو گا۔وہ جب دنیا میں بڑے بڑے مقامات حاصل کریں گے تو دنیا دار کی طرح باطل کے مقامات حاصل کر رہے ہوں گے۔جبکہ آج کی نسل میں وہی مقامات پہ فائز آدمی ، ایک متقی بھی ہو ہے، مخلص بھی ہو سکتا ہے۔جس کے وقت کی توجہ ہر وقت خدا کی طرف ہے۔سکتا ہے تو اتنا کام ہونے والا ہو جس جماعت کے لئے اندرونی طور پر اور پھر بیرونی طور پر جو دنیا کو تبدیل کرنا ہے۔یہ ساری باتیں اگر آپ غور کریں تو تب آپ کو سمجھ آئے گی کہ کتنا بھاری ذمہ داری کا کام ہے، کتنا بوجھ ہے۔اور جو لوگ جوابدہ ہیں وہ خدا کے سامنے کس طرح اپنے لمحات کا حساب پیش کریں گے۔ہم میں سے ہر ایک جوابدہ ہے۔اس لئے جماعت کا وقت اگر پہلے سے بہتر نہیں ہوتا تو میں جوابدہ ہوں۔اس تصور سے بھی میرے ہوش اڑتے ہیں اور جان کا نپتی ہے کہ کیا میں خدا کو منہ