خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 360
خطبات طاہر جلد ۶ 360 خطبه جمعه ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء تو سچائی کا سفر بھی ایک ایسا سفر ہے جس کو Conciously اس بات کو پیشِ نظر رکھ کر اختیار کرنا ہے کہ ہم نے سچائی کے مختلف پہلوؤں کو دریافت کرنا ہے کہ سچائی ہوتی کیا ہے اس سے پیار کرنا ہے، اس سے محبت کرنی ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا مانگنی ہے کہ خدا ہمیں سچائی کے بلند تر معیار نصیب فرماتا رہے۔یہ دو باتیں تو بنیادی ہیں۔ان دو باتوں کے درمیان اور بھی بہت سی چیزیں ایسی ہیں جن کا ان سے تعلق ہے، ایک چیز دوسرے پر اثر ڈالنے والی ہے۔میری مراد ہے عام اخلاق حسنہ۔روز مرہ کی گفتگو میں انسان کے اندر شائستگی پائی جائے ، حوصلہ پایا جائے، چھوٹی اور اوچھی باتیں نہ کرے، کمپنی کمینی باتوں پر خوش نہ ہو، ایک دوسرے کے اوپر فوقیت حاصل کرنے کی تمنا اس رنگ میں نہ ہو کہ انسان اپنی بڑائی کرنا شروع کر دے دوسرے کے اوپر ، ایک دوسرے پر فوقیت حاصل کرنے کی ایک تمنا تو وہ ہے جس کا خدا ہمیں حکم دیتا ہے اسی لئے میں کوئی تھوڑا ساڑک کر یہاں اس مضمون کو آگے بڑھاؤں۔ایک فوقیت تو وہ ہے جس کا خدا نے حکم دیا ہے کہ ضرور حاصل کرو و الشبقُونَ الشبقُونَ (الواقعہ: (1) ان کا ذکر فرماتا ہے کہ کیسے کیسے خدا کے پیارے بندے ہیں جو سبقت لے جانے والے ہیں اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے والے۔پس نیکیوں میں آگے بڑھنے والے وہی ہیں جو ایک دوسرے پر فوقیت اختیار کرتے ہیں لیکن اس فوقیت کو تکبر میں تبدیل نہیں ہونے دیتے۔اس فوقیت کے نتیجے میں اپنے سے کم درجے پر تمسخر نہیں کرتے اپنے سے کم درجے کا مذاق نہیں اڑاتے اسے اپنے سے گھٹیا اور نیچانہیں سمجھتے اس کی تذلیل نہیں کرتے۔یہ جو فوقیت کا تصور ہے کہ میں دنیا کی نظر میں بڑا ہو جاؤں اور خواہ خدا کی نظر میں چھوٹا ہی رہوں۔یہ وہ خطرناک چیز ہے جو اخلاق کو تباہ کر دیتی ہے۔روزمرہ کی زندگی میں بھی جو اخلاق ہیں ان کا سفر بھی جیسا کے میں نے جھوٹ کے خلاف جہاد کے متعلق کہا تھا گھروں سے شروع ہو گا۔گھروں میں اگر بداخلاقیاں ہورہی ہوں تو جو بچے ان گھروں میں پل کر جوان ہوتے ہیں وہ خوش اخلاق بن ہی نہیں سکتے۔اکثر قوموں کے اخلاق بگاڑنے والے ان کے ماں باپ ہیں۔گھروں میں اگر ماں اور باپ کا آپس کا معاملہ بدخلقی پر مبنی ہوگا تو یقین کریں کہ وہ نسل لا زمنا بد خلق ہو جائے گی جو ایسے گھروں میں پل رہی ہے۔خیر کی توقع ان سے