خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 359 of 888

خطبات طاہر (جلد 6۔ 1987ء) — Page 359

خطبات طاہر جلد ۶ 359 خطبہ جمعہ ۲۲ رمئی ۱۹۸۷ء ایک ایسی بات ہے کہ ایک کی نفی کی جائے تو اس کا جو دوسرا پہلو ہے وہ خود بخو دساتھ ابھر آتا ہے۔جھوٹ نہ بولنے کا مطلب یہ تو نہیں کہ بولیں ہی نہ، مطلب یہ ہے کہ جب بھی بولیں گے آپ سچ بولیں گے اور جب آپ سچ کی طرف متوجہ ہوں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ سچائی کا سفر بھی ایک بڑا وسیع سفر ہے۔جھوٹ نہ بولنے کا نام سچائی نہیں ہے صرف سچائی کے اندر بہت ہی بار یک مضامین داخل ہیں بہت ہی وسیع معانی ہیں اس لفظ کے اندر جو تجربے سے معلوم ہوں گے اور پھر بظا ہر آپ بچے بن چکے ہوں گے مگر مختلف مراحل پر آپ کو معلوم ہو گا کہ آپ اتنے سچے نہیں بنے تھے کہ یہاں بھی سچائی کو قائم رکھ سکیں۔ابتلاء کے مختلف ادوار انسان پر آتے ہیں بعض مواقع پر انسان کو یہ فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ یہاں اگر میں سچ بولوں گا تو یہ نتیجہ نکلے گا اگر میں جھوٹ بولوں گا تو یہ نتیجہ نکلے گا۔عام حالات میں کوئی شخص سچا بھی ہو تو بعض ایسے مراحل پر آکر وہ محسوس کرتا ہے کہ اس میں سچائی کی طاقت پیدا نہیں ہوئی کم سے کم اتنی پیدا نہیں ہوئی کہ اس مرحلے پر بھی وہ سچائی کے ساتھ چمٹ سکے۔تو مختلف مراحل پر سچائی کے امتحان بدلتے رہتے ہیں مختلف مراحل پر انسان محسوس کرتا ہے کہ کس حد تک وہ حقیقت میں سچا تھا اور کس حد تک حقیقت میں سچا نہیں تھا۔تو بڑا وسیع سفر ہے۔پس یہ کہہ دینا کہ جھوٹ نہ بولو یہ کافی نہیں سچائی کا ایک مثبت مضمون ہے۔اسی لئے انبیاء کے متعلق جب خدا تعالیٰ فرماتا ہے وہ صدیق تھے تو اس میں اور معیار کی باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔نبی کو صدیق کہنا سچائی کی اتنی عظیم الشان تعریف ہے کہ عام انسان عام حالات میں اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ سچائی ہوتی کیا ہے اس لئے یہ بہت ہی بڑا وسیع سفر ہے اس کے لئے بھی دعائیں کریں گے محنت کریں گے، اپنی نظر کو تیز کریں گے، غور کی عادت ڈالیں تو رفتہ رفتہ اللہ کے فضل کے ساتھ آپ کو سچائی کی گہرائی نصیب ہونا شروع ہو جائیگی سچائی کی وسعتوں سے آپ واقف ہونا شروع ہو جائیں گے اور یہ سچائی جب یہ مومن کو ایک روحانی سفر سے دوسرے روحانی سفر کی طرف لے جانا شروع کرتی ہے تو یہ بھی ایک رفعت کی تعریف ہے۔عملِ صالح کلام کو رفعت بخشتے ہیں اور کلمہ کی رفعت سے مراد مومن کی اپنی ذات کی رفعت بھی ہے کیونکہ مومن بھی ایک کلمہ ہے۔اس لئے واقعہ یہ ہے کہ سچائی کے نتیجے میں انسان کا مرتبہ بڑھنا شروع ہو جاتا ہے، انسان کا مقام بلند ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس کو نئی عظمتیں نصیب ہونی شروع ہو جاتی ہیں اور وہ رفتہ رفتہ اپنے گردو پیش سے بلند ہونے لگ جاتا ہے۔